صنعتوں کے قیام کیلئے مرکز سے 900 کروڑ کی اجرائی کا مطالبہ

   

مرکزی وزیر فینانس کی ویڈیو کانفرنس میں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی شرکت

حیدرآباد۔16۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مرکز سے صنعتوں کے قیام کیلئے رعایتوں کی فراہمی کے ضمن میں فنڈس کی اجرائی اور پسماندہ اضلاع کی ترقی سے متعلق زیر التواء فنڈس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے ریاستوں کے چیف منسٹرس اور فینانس منسٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ اور وزیر فینانس ہریش راؤ نے حصہ لیا۔ کے ٹی آر نے مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت پسماندہ اضلاع کی مالی مدد اور صنعتی ترقی کے لئے 900 کروڑ روپئے جاری کئے جائیں۔ کے ٹی آر نے صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کے مسئلہ پر ریاستی حکومت کی پالیسیوں اور اسکیمات کا تفصیلی پریزنٹیشن دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ہندوستان کی سب سے نئی ریاست ہے جس کی آبادی ملک کی آبادی کا 2.5 فیصد ہے لیکن یہ ریاست ملک کی جی ڈی پی میں 5 فیصد حصہ داری ادا کر رہی ہے ۔ ریاست کے قیام کے وقت جی ڈی پی 1.24 لاکھ کروڑ تھی جو آج بڑھ کر 2.37 لاکھ کروڑ ہوچکی ہے۔ ریاستوں کو صنعتوںکے قیام کے سلسلہ میں فراخدلانہ مدد کی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد اور بنگلور کے درمیان ڈیفنس انڈسٹریل کاریڈار کے قیام کی تجویز تھی لیکن مرکز نے اسے بندیل گھنڈ منتقل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے ریاست کو کئی شعبوں میں فنڈس کی اجر ائی باقی ہے۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ کی ہمہ جہتی ترقی میں مرکز سے تعاون کی خواہش کی اور کہا کہ مرکز کے تعاون کے ذریعہ تلنگانہ کی ترقی مزید بہتر طور پر ہوسکتی ہے۔ ر