فیڈریشن آف تلنگانہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں سے مہیش بھگوت کی ملاقات
حیدرآباد۔ ریاست میں صنعتی پیداوار پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے اور نہ ہی صنعتی اداروں کو بند رکھنے کے لئے احکام جاری کئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے فیصلہ کے بعد ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد کے اطراف کے علاقوں میں چلائے جانے والے صنعتی اداروں میں خدمات انجام دینے والوں اور ان کے مالکین میں بے چینی کی لہر پائی جا رہی تھی۔مسٹر مہیش بھاگوت کمشنر رچہ کنڈہ نے فیڈریشن آف تلنگانہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران بتایا کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران صنعتی پیداوار پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے اسی لئے 6تا10 بجے صبح کے دوران صنعتی ادارو ںمیں خدمات انجام دینے والے ملازمین آزادی کے ساتھ اپنے صنعتی اداروں کو پہنچ سکتے ہیں اور واپسی کیلئے انہیں صنعتی ادارہ کی جانب سے جاری کیا جانے والا شناختی کارڈ یا پاس کافی ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ رچہ کنڈہ کے حدود میں موجود تمام صنعتی ادارو ںکے ذمہ داروں کو اس بات سے مطلع کردیا گیا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں پیداوار کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس پیداوار کے لئے درکار عملہ کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ مسٹر مہیش بھاگوت نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران عوامی حمل و نقل پر پابندی عائد کی گئی ہے اور جو رعایت کے اوقات ہیں ان کے دوران ملازمین کو کمپنی میں طلب کیا جاسکتا ہے اور کسی بھی وقت کام جاری رکھا جاسکتا ہے۔ ریاست میں صنعتی سرگرمیوں کو جاری رکھے جانے کے سلسلہ میں وضاحت کے متعلق کہا جا رہاہے کہ دونوں شہروں کے اطراف واکناف کے علاقو ںمیں موجود صنعتی ادارو ںکے ذمہ داروں نے چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں سے اس بات کی شکایت کی تھی کہ پولیس کی جانب سے ملازمین کی حمل و نقل کے علاوہ صنعتی ادارو ںمیں مشینوں کے حرکت میں ہونے پر اعتراض کیا جانے لگا تھا صنعتی اداروں کی جانب سے موصول ہونے والی ان شکایات کے ساتھ ہی فیڈریشن کے ذمہ داروں نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہوئے ان سے اس سلسلہ میں وضاحت اور احکامات کی اجرائی کی خواہش کی تھی ۔