حکومت کے شعبہ ’ ایگل ‘ کی کارروائی میں 100 سے زائد لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا ، والدین کی نگرانی ضروری
حیدرآباد۔28۔اگسٹ(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں منشیات کے استعمال کے سلسلہ میں سنسنی خیز انکشاف ہونے لگے ہیں اور حکومت کی جانب سے منشیات کی لعنت پر قابو پانے کے لئے قائم کئے گئے شعبہ ’ایگل‘ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ شہر حیدرآباد میں خواتین اور صنف نازک میں منشیات کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہونے لگا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ شہرحیدرآباد کے میڈیکل کالجس میں تنقیح کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں لڑکیوں میں منشیات کی لعنت تیزی سے فروغ حاصل کررہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ’ایگل‘ کی جانب سے گذشتہ چند ماہ کے دوران کی گئی کاروائیوں کے دوران تاحال 100 سے زائد لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو کہ منشیات کی عادی تھیں اور ان کی جانچ کے دوران اس بات کی توثیق ہوئی کہ وہ گانجہ کے علاوہ دیگر منشیات کا استعمال کیا کرتی تھیں۔بتایاجاتا ہے کہ حیدرآباد پولیس نے گذشتہ دنوں کی گئی کاروائی کے دوران شہر کے خانگی میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کر رہی تین طالبات کو حراست میں لیا تھا جو کہ گانجہ کا استعمال کررہی تھیں۔عہدیداروں کے مطابق لڑکیوں اور خواتین میں بڑھنے والی اس لعنت کے سلسلہ میں تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ لڑکیاں اور نوجوان خواتین جو ذہنی دباؤ کا شکار ہیں وہ اس لعنت میں مبتلا ء ہورہی ہیں اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے ذریعہ منشیات کی فروخت کرنے والے افراد ان نوجوان لڑکیوں کو اپنے جھانسہ میں لیتے ہوئے انہیں منشیات کے عادی بنانے کے علاوہ بھاری کمیشن کا لالچ دیتے ہوئے ان کے ذریعہ منشیات کی منتقلی اور فروخت بھی کروانے لگے ہیں۔حراست میں لی گئی لڑکیوں نے کونسلنگ کے دوران اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں گانجہ اور دیگر منشیات کی فروخت کے سلسلہ میں کئی ریاکٹ چلائے جا رہے ہیں اور منشیات کی فروخت کرنے والوں کی جانب سے نوجوان طلبہ کو نشانہ بناتے ہوئے ان میں منشیات کے فروغ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔منشیات کی لعنت کا شکار ہونے والوں میں محض ذہنی تناؤ کا شکار لڑکیاں ہی نہیں بلکہ انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں اور میڈیکل شعبہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں شامل ہیں جو کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ جن 100 لڑکیوں کی گذشتہ چند ماہ کے دوران کونسلنگ کی گئی ہے ان میں 5لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو کہ نہ صرف منشیات کے استعمال کی عادی ہیں بلکہ وہ منشیات کی فروخت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔شہر کے خانگی میڈیکل کالج کے کیمپس میں منشیات کے استعمال کے سلسلہ میں ’ایگل‘ کے عہدیداروں نے بتایا کہ منشیات کے تدارک کے لئے چلائی جانے والی شعور بیداری مہم کو تعلیمی اداروں میں وسعت دینے کے علاوہ طلبہ کی جانچ کو یقینی بنانے کے اقدامات بھی کئے جارہے ہیں ۔منشیات کی لعنت کا شکار افراد کی کونسلنگ کرنے والے ماہرین کا کہناہے کہ اگر والدین اپنے بچوں کی خصوصی نگرانی کرتے ہوئے انہیں منشیات کے نقصانات کے متعلق واقف کرواتے ہیں اور انہیں اس لعنت سے دور رہنے کی ترغیب دینے کے علاوہ ان سے دوستانہ تعلق پیدا کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں نوجوانوں میں پھیل رہی منشیات کی لعنت کو بڑی حد تک روکا جاسکتا ہے کیونکہ والدین ہی اپنے بچوں کو سمجھاسکتے ہیں۔3