چاڈا وینکٹ ریڈی کا مشورہ ، بھوک ہڑتالی قائدین کی گرفتاری کی مذمت
حیدرآباد۔28 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ حالات بگڑنے سے قبل آر ٹی سی یونین کو بات چیت کے لئے مدعو کریں تاکہ ہڑتال کا خاتمہ ہو۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ہڑتالی ملازمین کی تائید میں بھوک ہڑتال کرنے والے سابق رکن اسمبلی کے سامبا سیوا راؤ کو پولیس کے ذریعہ جبراً مخدوم بھون سے نمس منتقل کردیا گیا جہاں وہ اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری انداز میں احتجاج کی تلنگانہ میں اجازت نہیں ہے۔ ہڑتالی قائدین کو گرفتار کرنے کیلئے نصف شب کے بعد پولیس کے دستے اس طرح حملہ آور ہوئے جیسے وہ مجرموں کو پکڑنے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتیں آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کرنا چاہئے ۔ پرامن انداز میں بھوک ہڑتال کرنے والے سامبا سیوا راؤ اور دیگر کارکنوں کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ہر مسئلہ کا حل بات چیت کے ذریعہ ممکن ہے لیکن کے سی آر کا بات چیت سے انکار باعث تشویش ہے۔ آر ٹی سی کے 48,000 ملازمین حکومت کے رویہ کے سبب سڑک پر آچکے ہیں۔ تنخواہ کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں دسہرہ ، بتکماں اور دیپاولی تہوار نہیں مناسکے۔ اس سلسلہ میں آج ضلع کلکٹرس کو یادداشت پیش کی گئی ۔ وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ 30 اکتوبر کو تمام تنظیموں اورجماعتوں کی جانب سے عام ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی خودکشی اور ہڑتال کی نوعیت میں شدت سے قبل چیف منسٹر کو اپنا ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔