صومالیہ قحط کے دہانے پر : اقوام متحدہ

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے سر براہ مارٹن گرفتھ نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ چار عشروں کی بد ترین خشک سالی کے بعد قحط کے دہانے تک پہنچ گیا ہے۔ موغادیشو میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران گرفتھ نے کہا کہ ایسی ٹھوس علامات موجود ہیں کہ جنوبی خلیجی علاقہ اس سال کے آخر تک قحط کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔گرفتھ نے گزشتہ ہفتے خشک سالی سے سب سے زیادہ متاثر ہ علاقیموغا دیشو اور جنوب کے ان دو میں سے ایک قصبے بیدواکا دورہ کیا جہاں بہت سے لوگ فاقہ کژی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قحط کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہ کیا گیا تو بیدوا اور اس کے قریب واقع برہاکبا قصبہ قحط کا مرکز ہو گا۔بیدوا میں اپنے قیا م کے دوران گرفتھ نے اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے لوگوں اور ان اسپتالوں کا دورہ کیا جہاں غذائیت کی قلت کے شکار بچوں کا علاج ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا میں گزشتہ چند روز میں درد اور مصائب کے حالات کو دیکھ کر دہل گیا ہوں جسے صومالیہ کے لوگ برداشت کر رہے ہیں۔ “قحط دروازے پر ہے اور ہم آج آخری انتباہ بھیج رہے ہیں۔