نئی دہلی،یکم جون (سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ دو ماہ سے جاری ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران مزدوروں، ضرورت مندوں، پاس پڑوس کے لوگوں اور دیگر علاقوں میں آل انڈیا علماء بورڈ نے تقریباً دو ہزارسے زائد لوگوں کو راشن کٹس، مزدورں کو کھانا پینے کی چیزیں اور کرونا سے متعلق دیگر ضروریات فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے اسے کورونا وائرس کے سرٹیفیکٹ سے بھی نوازا گیا۔آل انڈیا علمائے بورڈ کے قومی جنرل سکریٹری سید طارق انور، علماء بورڈ یوتھ ونگ کے صدر اور سماجی کارکن محمد رفیع،جاوید خاں اور سلیم خاں نے بتایا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں انسانیت کی خدمت ہی ہمارا مقصد ہے اور ہماری کوشش ہے کہ کوئی انسان بھوک نہ سوئے ۔ انہوں نے کہاکہ جیسے ہی اچانک لاک ڈاؤن شروع ہوا۔ معاشرے کے غریب، مزدور اور یومیہ کام کرنے والے دانے دانے کے محتاج ہوگئے ۔ اس منظر کو دیکھ کر ہم لوگوں فیصلہ کیا کہ جہاں تک ممکن ہوسکے گا ہم غریبوں، مزدوروں اور بے سہاروں کی مدد کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی بنیاد پر ہم نے کام شروع کیا اور راشن کٹ تیار کرکے شاہین باغ میں ایک ہزار لوگوں کو،ذاکر نگر میں 350لوگوں، بٹلہ ہاؤس میں 150لوگوں کو، سرائے کالے خاں میں 350لوگوں، بھرت نگر 125لوگوں کو، تغلق آباد 200لوگوں کو، سیلم پور مصطفی آباد2500کھانے کے پیکٹس اور روہنگیا مسلمانوں میں 290لوگوں کو ضرورت کا سامان پہنچایا۔انہوں نے بتایا کہ مختلف مقامات پر پھنسے مزدوروں اور بسوں میں سفر کرنے والے مزدوروں کو کھانے کا پیکیٹ پانی کی بوتل، ماسک، سینٹائز وغیرہ بھی ہم لوگوں نے فراہم کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس وقت ایک طبقہ ہندو مسلم کر رہا تھا اور یا میڈیاہندوستان کو ہندو مسلم میں بانٹ رہے تھے اس وقت ہم لوگوں کی ان لوگوں کی پوری مدد کرنے کی کوشش کی جن کو سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ علمائے بورڈ نے اس سنگین صورت حال میں انسانیت کی بہترین مثال پیش کی ہے جس کی وجہ سے متعدد تنظیموں نے اس کی تعریف کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی پولیس اور برٹش کونسل سے انہیں کورونا وایرس کی سرٹی فیکٹ بھی حاصل ہوئی ہے ۔انہوں نے ان کا ارادہ ہے کہ راحت رسانی کے کام کو منظم انداز میں کیا جائے تاکہ ضرورت مندوں کو بروقت راحت پہنچائی جاسکے ۔انہوں نے بتایا کہ ہماری ٹیم 25افراد پر مشتمل ہے جو راحت رسانی کا کام کرتی ہے ۔