ضرورت مندوں کے ذہنوں پر کبھی نہ مٹنے والے نقوش

   

شاہجہاں پور اترپردیش میں سیلنڈر والی بٹیا عرشی کی گرانقدر خدمات ، والد کی موت کے بعد دوسروں کو بچانے کا عزم
حیدرآباد۔ ملک بھر کی کئی ریاستوں میں سانس لینے میں ہونے والی تکالیف کو دور کرنے کے لئے کئی لوگ اپنے طور پر آکسیجن کی فراہمی کے سلسلہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی منفرد خدمات کے ذریعہ شہریوں اور ضرورتمندوں کے ذہنوں پر اپنے کبھی نہ مٹنے والے نقوش چھوڑنے لگے ہیں جن میں شاہجہاں پور (اترپردیش) سے تعلق رکھنے والی 26سالہ لڑکی عرشی بھی شامل ہے جو کہ اپنی اسکوٹی کے ذریعہ ضرورتمندوں کو آکسیجن سیلنڈرس کی فراہمی کے اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے سانسوں کی ٹوٹنے سے بچا رہی ہے۔اپنے باپ کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ان کے لئے آکسیجن سیلنڈر کے حصول میں ہونے والی دشواریوں کو دیکھتے ہوئے عرشی نے 20سیلنڈرس کا عطیہ دینے اور مفت سربراہی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ریاست اتر پردیش میں جہاں حکومت نے آکسیجن کی قلت کی شکایت کرنے پر قانونی کاروائی کا انتباہ دیا ہے اور یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی نگرانی میں ریاست میں فرقہ پرستی کو عروج حاصل ہورہا ہے ایسے میں ایک نوجوان مسلم لڑکی اپنی اسکوٹی پر گھر گھر سیلنڈر پہنچاتے ہوئے اپنی ایک منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ عرشی کو اب اتر پردیش میں عرشی سے زیادہ ’’سیلنڈر والی بٹیا‘‘ کے نام سے جانا جانے لگا ہے اور ایک معمولی لڑکی کے اس کارنامہ نے لڑکی کو ملک بھر میں معروف کردیا ہے جس کی وجہ سے اب عرشی کو نہ صرف شاہجہاں پور سے سیلنڈرس کے لئے درخواستیں موصول ہونے لگی ہیں بلکہ اترپردیش کی پڑوسی ریاست اترکھنڈ سے بھی آکسیجن سیلنڈر کے لئے درخواستیں موصول ہونے لگی ہیں اور اترپردیش کی یہ سیلنڈر والی بٹیا اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے ضرورتمندوں تک سیلنڈرس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے۔ سیلنڈر والی بٹیا نے بتایا کہ ان کے والد کے لئے آکسیجن سلینڈر کے حصول میں ہونے والی دشواریوں کے دوران انہوں نے جب ضلع انتظامیہ سے مدد طلب کی تو انہیں کہا گیا کہ جو مریض گھریلو قرنطینہ میں ہیں انہیں آکسیجن فراہم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عرشی نے بتایا کہ جب انہیں اس بات کا علم ہوا تو انہوں مختلف تنظیموں سے رابطہ کرتے ہوئے گھریلو قرنطینہ میں موجود مریضوں کے لئے آکسیجن کی فراہمی کے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی منصوبہ کے تحت وہ ضرورت مندوں کو آکسیجن کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے اور لوگ گھریلو قرنطینہ میں سیلنڈر حاصل کررہے ہیں۔