ضرورت مند سادات کرام کی مدد و تعاون کیلئے خصوصی توجہ

   

شہر کے علاوہ مختلف مقامات پر مہم ، مولانا سعید قادری کی تقریب
حیدرآباد۔ 23۔مارچ(سیاست نیوز) ماہ رمضان المبار ک کے دوران مستحق اور ضرورت مند سادات اکرام کی مدد اور ان کے تعاون پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں بعض خانقاہوں ‘ تنظیموں اور اداروں کی جانب سے مخصوص انداز میں کام سرانجام دیا جا رہاہے۔ سادات اکرام کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کے سلسلہ میں شہر حیدرآباد کی سرکردہ خانقاہوں کے ذمہ داروں کی جانب سے شروع کی گئی مہم اب عالمی سطح پر پھیلنے لگی ہے اور جو لوگ اب تک سادات اکرام اور ان کے مسائل کے متعلق غفلت کا شکار تھے ان کی جانب سے بھی سادات اکرام کو عطیات ‘ تحائف اور نذرانہ دیا جانے لگا ہے۔ قادریہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی جانب سے مولانا سید احمد الحسینی المعروف سعید قادری نے سال 2012 میں سادات اکرام کی مدد کا سلسلہ شروع کیا تھا جو کہ اب بھی جاری ہے اور ہر سال 17 رمضان المبارک کو بہ پابندی یہ تقریب منعقد کی جاتی ہے اور اس تقریب کے دوران رمضان المبار ک کے مقدس مہینہ میںسادات گھرانوں کی مدد کی جائے جو کسی کے آگے دست طلب دراز نہیں کرتے لیکن ان کی ضروریات کا ان خاندانو ںکو ہوتا ہے اسی لئے وہ غیر محسوس طریقہ سے ان کی مدد کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ انہیں احساس ندامت نہ ہو اور نہ ہی وہ مدد لیتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں ۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ اب ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بھی سادات اکرام کی مدد کے لئے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان مستحق سادات کو بھی عید کے موقع پر خوشیاں حاصل ہوسکیں جو کہ سادات ہونے کے سبب دست طلب دراز کرتے ہوئے زکواۃ ‘ صدقات یا خیرات حاصل نہیں کرسکتے بلکہ ان سادات اکرام کو خاموشی کے ساتھ تحائف ‘ نذرانہ اور عطیات دیئے جانے چاہئے ۔ مولانا سید احمد الحسینی المعروف سعید قادری صدر قادریہ انٹرنیشنل نے بتایا کہ سال 2012 میں حضرت مولانا سید شاہ قبول بادشاہ قادری ؒ کی نگرانی میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا اور اس پروگرام کے آغاز اور تقریب کے اہتمام کے سلسلہ میں ان کا کہنا ہے کہ سادات کی مدد اور مستحق سادات اکرام کو دیگر خانقاہوں‘ اداروں اور خانوادوں کی جانب سے بھی مدد کا سلسلہ شروع ہونے کی ترغیب دینا مقصد ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ جاریہ سال جو تقریب منعقد کی گئی اس کی نگرانی مولانا سید شاہ محمود بادشاہ قادری زریں کلاہ نے کی اور اس موقع پر کئی سادات گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں کو تہنیت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمت میں نذرانہ اور تحائف پیش کئے گئے ۔اس کے علاوہ شہر میںموجود ضرورتمند سادات اکرام کی نامعلوم ذریعہ سے مدد کو یقینی بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کیونکہ ان کی آنکھوں میں کوئی احساس شرمندگی نہ رہے اور ان تک ان کے سامان ضروریات کو پہنچایاجاسکے۔3