حیدرآباد /17 فروری ( سیاست نیوز ) کیا آپ نے آس پاس رہنے والے ضرورتمندوں کی مدد کی ہے ؟ اگر آپ کے پاس ایک کروڑ روپئے ہوتے تو کیا کرتے؟ مگر کبھی اس ضعیف خاتون نے ایک لمحہ سونچے بغیر عطیہ دے دیا ۔پڑوسی ریاست کرناٹک کے ضلع ہاویری کے ایک چھوٹے سے گاؤں کونکیری میں رہنے والی 75 سالہ ہوچماں چودھری تنہا رہتی ہے 30سال قبل شوہر کا انتقال ہوگیا تھا کھیتی باڑی کرتے ہوئے زندگی گذارتی ہے ۔ گاؤں میں اسکول قائم کرنے کیلئے گرام پنچایت میں جب مشاورت شروع ہوئی تو اس خاتون نے بغیر وقت ضائع کئے ۔ اپنی ایک ایکر اراضی اسکول کیلئے عطیہ دے دی ۔ جب اسکولی طلبہ کو گراؤنڈ کی ضرورت پڑی تو مزید ایک ایکر اراضی دوبارہ عطیہ دینے کا فیصلہ کیا ۔ جب رجسٹری کرنے والے عہدیداروں نے بتایا کہ ایک ایک ایکر اراضی کی قیمت 50 لاکھ ہے تو ہوچماں چودھری نے بتایا کہ وہ پیسے لے کر کیا کریں گی ۔ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ اسکول میں زیر تعلیم 300 بچے انہیں ’’ اماں‘‘ کہتے ہیں ۔ انہیں اس سے زیادہ اور کیا چاہئے ۔ وہ اسی اسکول میں مڈ ڈے میل پکانے میں مدد کرتی ہے ۔ اسکول کے بعد زرعی سرگرمیوں میں مصروف ہوجاتی ہے ۔ گاؤں میں اس ضعیف خاتون کی ہر کوئی عزت کرتا ہے ۔ ن