ایمبولنس ڈرائیورس نے ہزاروں روپئے کی مانگ کی، ضلع کھمم میں دردناک واقعہ
حیدرآباد : نعش کو منتقل کرنے کیلئے ایمبولنس کے ڈرائیورس نے ہزاروں روپئے کی مانگ کرتے ہوئے ایک ضعیف شخص کی نعش کو موٹر سیکل پر روانہ کیا گیا۔ یہ واقعہ ضلع کھمم میں پیش آیا۔ کورونا بحران کے بعد خانگی ایمبولنس کی جانب سے مریضوں اور نعشوں کو منتقل کرنے کیلئے بھاری رقم وصول کرنے کی کئی شکایتیں منظرعام پر آئی ہیں۔ مجبور عوام نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو برداشت کیا ہے۔ کورونا کے واقعات میں کمی آئی ہے مگر خانگی ایمبولنس کی جانب سے مجبوری کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ ناسازی صحت کی وجہ سے فوت ہونے والے شخص کو موٹرسیکل پر گھر پہنچایا گیا ہے۔ تفصیلات کے بموجب ضلع کھمم کے ملارانی موضع کا ایک 70 سالہ ضعیف شخص اے نارائنا ایک ہفتہ سے بیمار تھا اور مدھیرا کے ایک خانگی ہاسپٹل میں زیرعلاج تھا۔ تھوڑا ٹھیک ہونے کے بعد گھر واپس ہوا۔ دوبارہ گھر پہنچتے ہی دل میں درد کی شکایت کی۔ ارکان خاندان نے اس ضعیف شخص کو دوبارہ ہاسپٹل پہنچانے موٹرسیکل پر لے کر گھر سے روانہ ہوئے راستے میں سری پورم گاؤں میں ایک آر ایم پی ڈاکٹر کو دکھایا گیا جس سے مدھیرا کے ہاسپٹل میں علاج کرانے کا مشورہ دیا۔ موٹرسیکل پر مدھیرا روانہ ہونے کے دوران آتکور موضع کے قریب ضعیف شخص کے قلب پر حملہ ہوگیا اور موٹرسیکل پر ہی اس نے دم توڑ دیا۔ ارکان خاندان نے ایمبولنس میں گھر منتقل کرنے کیلئے بات کی تو ایمبولنس کے ڈرائیور نے ہزاروں روپئے کی مانگ کی۔ غریب خاندان نے نعش کو سیکل موٹر ہی پر گھر منتقل کیا۔