بجٹ سیشن میں قانون سازی، نئی ہیلت پالیسی کا عنقریب اعلان، ٹرانسجینڈرس کو بلدیات میں رکنیت، معذورین کی بھلائی تقریب سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد 12 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست کے آئندہ بجٹ تجاویز مالیاتی سال 2026-27ء میں نئی ہیلت کیئر پالیسی متعارف کرنے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے ضعیف والدین کو نظرانداز کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے 10 تا 15 فیصد منہا کرنے کے علاوہ معذور جوڑوں کی شادی پر 2 لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے آج پرجا بھون میں منعقدہ تقریب میں معذورین کے آلات بشمول بیاٹری سے چلنے والی 3 پہیے کی گاڑیاں، وہیل چیئر، لیاپ ٹاپ، آلۂ سماعت، موبائیل فون اور دیگر اشیاء کی تقسیم عمل میں لائی۔ معذورین کی بھلائی کی اسکیم کے تحت 50 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت ہر شہری کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کے عہد کی پابند ہے۔ حکومت نے آئندہ بجٹ میں نئی ہیلت پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ٹرانسجینڈرس کو تمام میونسپل کارپوریشنوں میں کوآپشن ممبر کے طور پر نامزد کیا جائے گا۔ ہر میونسپل کارپوریشن میں کوآپشن ممبر کی ایک نشست ٹرانسجینڈر کے لئے الاٹ کی جائے گی۔ کوآپشن ممبر کے طور پر نامزدگی کا مقصد ٹرانسجینڈرس کے مسائل کو پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت نے معذورین کی بھلائی کے لئے کئی اسکیمات متعارف کی ہیں۔ ضعیف والدین کو نظرانداز کرنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ ایسے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے 10 تا 15 فیصد کی ہر ماہ کٹوتی کرتے ہوئے ضعیف والدین کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس سلسلہ میں آئندہ بجٹ سیشن میں قانون سازی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ بچوں کے خلاف شکایت کرنے والے والدین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکومت نے 10 فیصد تنخواہ میں کٹوتی کا منصوبہ بنایا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت کی جانب سے سینئر سٹیزنس کی نگہداشت کے لئے ڈے کیئر سنٹرس قائم کئے جارہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ سماج میں معذورین کو مناسب مواقع فراہم کرنے کے لئے حکومت نے ہر سال بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ تعلیم اور روزگار میں معذورین کے لئے خصوصی کوٹہ فراہم کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ شادی کرنے والے نئے معذور جوڑوں کو حکومت کی جانب سے 2 لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ پیرا اولمپکس میں میڈل حاصل کرنے والی ایک معذور لڑکی کو سرکاری ملازمت فراہم کی گئی ہے۔ اُنھوں نے معذورین سے اپیل کی کہ وہ سرکاری اسکیمات سے استفادہ کرتے ہوئے خود اعتمادی کو مضبوط کریں۔ ریونت ریڈی نے اِس موقع پر سابق مرکزی وزیر جئے پال ریڈی کا حوالہ دیا جو معذوری کے باوجود بیسٹ پارلیمنٹرین کے اعزاز تک پہونچے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ اپنی محنت اور عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت جئے پال ریڈی کی راہ میں اُن کی معذوری کبھی رکاوٹ نہیں بن پائی۔ سماجی انصاف کے تحت تمام کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنے کے عہد کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ میں پہلی مرتبہ ذات پات پر مبنی سروے کا اہتمام کیا گیا جو ملک کے لئے ایک مثال ہے۔ مرکزی حکومت کو تلنگانہ کی طرز پر قومی سطح پر طبقاتی سروے کا اعلان کرنا پڑا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی سی طبقات کو تحفظات کے علاوہ ایس سی زمرہ بندی پر عمل کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد پرجا بھون کے دروازوں عوامی شکایات کی یکسوئی کیلئے کھول دیئے گئے ہیں۔ بی آر ایس دور میں عوام کا داخلہ ممنوع تھا۔ پرجا بھون میں ہر ہفتہ عوامی مسائل کی سماعت اور یکسوئی کی جارہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، وزراء دامودھر راج نرسمہا، اے لکشمن، سیتکا، رکن پارلیمنٹ بلرام نائک اور عوامی نمائندے موجود تھے۔1
