انچارج وزیر کی نگرانی میں مسائل کی یکسوئی، حکومت کی ترجیحات کا تعین، نظم و نسق کو غیر مرکوز کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔/18 جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فلاحی اسکیمات اور ترقیاتی سرگرمیوں پر موثر عمل آوری کیلئے ضلع جائزہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے ضلع واری سطح کی جائزہ کمیٹی کے اجلاس منعقد نہیں کئے اور نظم و نسق کو چیف منسٹر کے دفتر تک مرکوز کردیا گیا تھا۔ سابق میں ضلع سطح پر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کیلئے انچارج وزیر کی قیادت میں ضلع جائزہ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کئے جاتے رہے جس سے نظم و نسق کو غیر مرکوز کرنے میں مدد ملی تھی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ضلعی سطح پر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ڈی آر سی ( ڈسٹرکٹ ریویو کمیٹی ) کے اجلاسوں کا احیاء عمل میں آئے گا تاکہ مسائل کا مقامی سطح پر حل تلاش کیا جاسکے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریاستی وزراء نے بھی اس تجویز کی تائید کی ہے اور متحدہ اضلاع کی بنیاد پر 10 اضلاع کیلئے انچارج منسٹرس کا تقرر کرتے ہوئے عنقریب احکامات جاری کئے جائیں گے۔ بی آر ایس حکومت سے قبل ڈی آر سی اجلاسوں کو مِنی اسمبلی شمار کیا جاتا تھا۔ ضلع کلکٹر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں انچارج وزیر نہ صرف ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیتے تھے بلکہ انچارج وزیر کو فنڈز کی اجرائی کا اختیار حاصل تھا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء سے کہا کہ تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، عمارات و شوارع کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کی بہبودی سے متعلق اہم مسائل کی ضلعی سطح پر یکسوئی کیلئے ڈسٹرکٹ ریویو کمیٹی کے اجلاس معاون ثابت ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر متحدہ اضلاع کے انچارج منسٹرس میں بعض تبدیلیوں کے حق میں ہیں۔ مقامی ارکان اسمبلی سے بہتر روابط رکھنے والے وزراء کو انچارج مقرر کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریویو کمیٹیوں کے احیاء سے متعلق احکامات کی اجرائی کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی اضلاع کے دورے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ متحدہ آندھرا پردیش میں ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ ڈسٹرکٹ ریویو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا کرتا تھا جس میں اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی، کونسل، ارکان پارلیمنٹ، ضلع پریشد چیرمین شرکت کرتے اور اجلاس میں ضلعی سطح کے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا تھا۔1