پرگتی بھون میں کلکٹرس کے ساتھ اجلاس ، آر ٹی سی ہڑتال کا جائزہ ، چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔10اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست کے تمام اضلاع میں بسوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے ریاست میں شہریوں کو کسی قسم کی تکالیف کا سامنا کرنا نہ پڑے ایسے اقدامات کئے جائیں ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کے تمام ضلع کلکٹرس سیپرگتی بھون میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اضلاع میں مسافرین کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی۔ چیف منسٹر نے ریاست کے تمام اضلاع کے کلکٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے بس ہڑتال کے سبب پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا اور عہدیداروںکو ہدایت دی کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اس بات کو یقینی بنانے کیلئے لازمی ہے کہ تمام اضلاع میں بس خدمات کو بہتر سے بہتر بناتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھا جائے۔ ضلع کلکٹرس نے چیف منسٹر کو بتایا کہ خانگی ڈرائیورس اور کنڈکٹرس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے کس طرح سے بس سروس کو متاثر ہونے سے بچانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بس ہڑتال کے آغاز کے ساتھ ہی اضلاع میں اختیار کئے گئے متبادل انتظامات کے سلسلہ میں آگہی حاصل کی اور کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے آر ٹی سی یا کسی اور محکمہ کے ملازمین کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت نے اس ہڑتال کی شروعات کے ساتھ ہی یہ پیغام دے دیا تھا۔ بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اس اہم اجلاس کے دوران عہدیدارو ںکو متبادل انتظامات کے ساتھ عوام کے لئے راحت پیدا کرنے کے علاوہ ریاست میں کسی قسم کی بد امنی کو روکنے کی بھی اقدامات کئے جائیں اور بسوں میں من مانی وصولی کی شکایات کو دور کرنے کیلئے بھی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کیا جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پرگتی بھون میں ہوئے اس اجلاس میں ریاستی وزراء ‘ اعلی عہدیداروں کے علاوہ ضلع کلکٹرس موجود تھے۔چیف منسٹر نے اجلا س کے دوران کہا کہ ریاست میں ہڑتال کرنے والے ملازمین کے خلاف حکومت کیا کاروائی کرسکتی ہے اس کا مظاہرہ کردیا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کسی کاروائی کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ حکومت نے ہڑتال سے قبل ہی انتباہ دیا تھا کہ وہ ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرلیں بصورت دیگر انہیں اپنی ملازمتوں سے محروم ہونا پڑے گا اور انتباہ کو نظر انداز کیا گیا۔