حیدرآباد :۔ حکومت تلنگانہ نے آصف آباد میں مشتبہ آدم خور شیر کو خاموش کرنے کے لیے پڑوسی ریاست مہاراشٹرا کی حکومت سے مدد طلب کی ہے ۔ جس کی وجہ نومبر میں دو انسانوں کی ہلاکت ہوئی ۔ اس شیر کو پکڑنے کے لیے جنگل میں لگائے گئے پنجروں سے اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔ پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹس اینڈ چیف وائیلڈ لائف وارڈن آر شوبھا نے مہاراشٹرا کے محکمہ جنگلات کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے اس کی ریاپڈ ریسپانس ٹیمس
(RRTs)
کی مدد طلب کی ہے ۔ انہوں نے اس شیر کو خاموش کرنے اور اسے پکڑنے کے لیے بھی احکام جاری کئے ۔ کاغذ نگر کے فارسٹ ڈیویژنل آفیسر وجئے کمار نے کہا کہ ریاپڈ ٹیمس کو ابھی آنا باقی ہے ۔ ہماری مقامی ٹیمس اس کی تلاش اور نشاندہی کریں گی جس پر آر آر ٹی ہماری مدد کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مویشیوں کی ہلاکت اب بھی ہر ہفتہ ہورہی ہے ۔ ٹائیگر کاریڈر ایریا میں کئی شیر ہیں ان ہلاکتوں کے لیے ہم ایک شیر کی نشاندہی نہیں کرسکتے ہیں ۔ فی الوقت
’ A2 ‘
شیر کو پکڑنے پر توجہ دی جارہی ہے جو مہاراشٹرا سے آصف آباد میں داخل ہوا ہے ۔ وائیلڈ لائف ونگ کے ایک فاریسٹ آفیسر نے کہا کہ ’ ماہرین نے ہمیں بتایا کہ شیر کو پکڑنے کے لیے لگائے گئے پنجروں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ مہاراشٹرا میں اس تجربہ کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ۔ اس لیے ہم نے اس شیر کو خاموش کرنے کا فیصلہ کیا ۔ جنگلات کے عہدیداروں نے ٹائیگر کاریڈر علاقہ میں ’ پرے بیس ‘ کو بہتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ ماہرین نے کہا کہ چونکہ اس علاقہ میں شیر کو شکار کرنے کے لیے ’ پرے بیس ‘ کم ہے اس لیے شیروں کی جانب سے مویشیوں اور انسانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔۔
