ضلع حضور آباد کو ’ پی وی نرسمہا راؤ ‘ سے موسوم کرنے کا امکان

   

علاقہ کی عوام کو راغب کرنے مختلف سیاسی ہتھکنڈے، حکمراں جماعت اور ایٹالہ راجندر سرگرم، کانگریس بھی کمربستہ
حضورآباد ۔ سابق وزیر ایٹالہ راجندر کی وزرات سے برطرفی اور پارٹی رکن اسمبلی سے مستعفی ہونے اور زعفرانی جماعت میں شمولیت کے بعد حضورآبادکا نام ریاست بھر میں فی الوقت سرفہرست ہے۔ ایک طرف سابق وزیر زعفرانی جماعت میں شامل ہونے کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ جمنا ریڈی اسمبلی حلقہ کے تمام مواضعات اور منڈلوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کوشاں ہیں کیونکہ کل حیدرآباد سے واپسی پر حضورآباد علاقہ میں سابق وزیر کا ان کے مداحوں اور بی جے پی کارکنان نے والہانہ استقبال کیا ۔ حکمران پارٹی نے حضورآباد کی ترقی کے لئے کروڑوں روپیوں کا بجٹ منظور کیا ہے جس میں سڑکوں کی مرمت اور دیگر ترقیاتی کام شامل ہیں۔ سابق میںجب ریاست میں جدید اضلاع بنانے کی تیاری کی جارہی تھی اس وقت یہاں سے ایک آواز حضورآباد کو سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ کے نام سے موسوم حضورآباد ضلع بنانے کی جدوجہد کی گئی تھی لیکن اس پر سیاسی افراد کی بے توجہ سے یہ آوازدب گئی تھی لیکن اس وقت اس علاقہ میں پھر سے حکمراں پارٹی اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ حضورآباد کو ورنگل اربن علاقہ کے کچھ منڈلوں کو جو سابق میں ضلع کریم نگر ہی میں تھے بھیمادیورہ پلی جوکہ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو کا آبائی وطن ہے آج بھی ان کا گھر اسی منڈل کے موضع ونگرہ میں ہے اور حضورآباد کو لگا ہوا ہے کملاپور، ایلکا ترتی کو شامل کرتے ہوئے جمی کنٹہ، سعیدہ پور ،شنکرہ پٹنم ایلندہ کنٹہ جدید منڈل، وینی ونکا کو شامل کرتے ہوئے حضورآباد کو جدید پی وی نرسمہا راؤ حضورآباد ضلع بنانے کے قوی امکانات نظر آرہے ہیں۔ جاریہ ماہ کی 28 تاریخ کو سابق وزیر اعظم کا یوم پیدائش ہے اس دن چیف منسٹر کی جانب سے ضلع کا اعلان کرنے کی قوی امکانات ہیں جس سے اس علاقہ کے لوگ پھر سے حکمران پارٹی کی طرف راغب ہوجائیں گے۔ ریاست کے اہم وزراء اس علاقہ کا ہر روز دورہ کررہے ہیں جس میں ریاستی وزیر پسماندہ طبقات گنگولہ کملاکر، کریم نگر ضلع انچارج وزیر بسواراج ساریا، پدی سدرشن ریڈی، وی ستیش بابو حسن آباد یم یل اے حضورآباد انچارج ،کپولہ ایشور، شنکرہ پٹنم ایم ایل اے انقلابی شاعر رسمئی بالاکرشنا اور بہت سے قائدین کی آمد ہورہی ہے، اور کئی پروگراموں کا انعقاد ہورہا ہے۔ حال ہی میں کلیانہ لکشمی شادی مبارک، سی ایم ریلیف فنڈس کے چیکس کی بھی مستحقین میں وزیر کے ہاتھوں تقسیم عمل میں بھی آئی۔ حکمراں جماعت کے قائدین کارکنان نے چیف منسٹر کے پوسٹر کو دودھ سے دھویا ۔ دوسری طرف کانگریس قائد حضورآباد انچارج پڈی کوشک ریڈی نے بھی کمر کیس لی ہے ان پر ایک موقع پر ایک غیر سرکاری تقریب میں ریاستی وزیر بلدی نظم ونسق کے ٹی راما راؤ سے گفتگو کی تصویر بھی وائرل ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ تنقیدوں کے گھیرے میں آئے تھے کہ وہ حکمراں جماعت میں شامل ہورہے ہیں بعد میں انہوں نے اس کی صفائی دی اور کہا کہ وہ کانگریس پارٹی کے ٹکٹ ہی سے اس علاقہ میں مقابلہ کریں گے۔ وہ سابق وزیر پر تنقیدوں کی بھر مار کررہے ہیں سابق این ایس یو آئی کے صدر ٹی سمپت بھی ان کی جائیداد پر تنقیدوں کی بھر مار کررہے ہیں۔ حال ہی میں کچھ این ایس یو کے طلباء حکمراں جماعت میں شامل ہوئے ہیںان کو ریاستی وزیر نے گلابی شال ڈال کر اپنی پارٹی میں شامل کیا۔ حضورآباد راشن ڈیلرس اسوسی ایشن نے حکومت کی تائید کا اعلان کیا۔