ضلع سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل سے وزراء اور ارکان اسمبلی کو اعتراض

   

پاور سنٹرس میں اضافہ ہوگا، چیف منسٹر نے کیشو راؤ کو کمیٹیوں کی ذمہ داری دی
حیدرآباد۔27 ۔اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 2023 ء اسمبلی انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کو دیہاتوں کی سطح تک مستحکم کرنے کیلئے بڑے پیمانہ پر تبدیلی کا منصوبہ بنایا ہے ۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ ضلع سے لے کر منڈل اور گاؤں کی سطح تک کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو عوام سے ربط میں رہتے ہوئے حکومت کی اسکیمات کے فوائد سے آگاہ کریں گے ۔ چیف منسٹر نے حالیہ پارٹی اجلاس میں اپنے منصوبہ کا اعلان کیا جس کے بعد سے وزراء اور ارکان اسمبلی میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء اورارکان اسمبلی ضلع واری سطح کی کمیٹیوں کے حق میں نہیں ہے کیونکہ کمیٹیوں کی تشکیل سے نئے پاور سنٹرس کا اضافہ ہوجائے گا اور وزراء اور ارکان اسمبلی کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔ موجودہ حالات میں ضلع میں متعلقہ وزیر اور ارکان اسمبلی کا عہدیداروں پر کنٹرول ہے۔ عوامی اسکیمات ہوں یا پھر ترقیاتی کام ان کی تکمیل کیلئے عوام کو ارکان اسمبلی سے رجوع ہونا پڑ رہا ہے ۔ ضلع واری کمیٹیوں کی تشکیل کی صورت میں پاور سنٹرس میں اضافہ ہوجائے گا اور لوگ پارٹی کے ضلع صدر اور دیگر عہدیداروں سے اپنے مسائل کے حل کے لئے رجوع ہوں گے ۔ چیف منسٹر نے پارٹی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر کیشو راؤ کو ذمہ داری دی ہے کہ ستمبر کے اختتام تک ضلع واری کمیٹیوں کی تشکیل کا منصوبہ تیار کریں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر ضلع میں متحرک سینئر قائدین کی فہرست پیش کریں تاکہ کمیٹی میں جگہ دی جاسکے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سرکاری عہدوں سے محروم ناراض قائدین کو منانے کے لئے چیف منسٹر نے ضلع واری کمیٹیوں کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پارٹی کی سطح پر اہم عہدہ فراہم کرتے ہوئے الیکشن سے قبل کیڈر کو متحرک کیا جاسکے ۔ کئی قائدین نے ضلع کے عہدوں کے بجائے سرکاری اداروں پر تقررات کا مطالبہ کیا ہے ۔ گزشتہ 7 برسوں سے سرکاری اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات نہیں کئے گئے ۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر نامزد عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں جلد ہی کوئی فیصلہ کریں گے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ضلع کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد ہر ضلع میں وزراء اور ارکان اسمبلی کس طرح تال میل کے ساتھ کام کرپائیں گے۔ R