جڑچرلہ منڈل میںٹریپل آئی ٹی کی عمارت کے سنگ بنیاد پروگرام سے خطاب ۔ شعبہ تعلیم پر خصوصی توجہ
محبوب نگر۔17؍ جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع محبوب نگرکی ہمہ جہت ترقی بالخصوص تعلیم اورآبپاشی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پرترقی کیلئے ہم جامع منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ان عزائم کا اظہار چیف منسٹراے ریونت ریڈی نے کیا۔ وہ آج ضلع محبوب نگرکے جڑچرلہ منڈل کے ملے بوئن پلی موضع میں ٹریپل آئی ٹی کی شاندار عمارت کاسنگ بنیاد رکھتے ہوئے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر گولا رام کرشن رائوکے بعد تقریباً75سال کے بعد ضلع محبوب نگر سے چیف منسٹربننا ایک بڑا اعزاز ہے ۔ اب میں نہیں چاہتا کہ ترقی کا کوئی موقع گنوائوں۔انہوںنے واضح کیاکہ میں تو وزیر بھی نہیں تھالیکن تمام کی حمایت اورآرزئوں سے وزیراعلیٰ بنا‘ میرے پیش نظر صرف عوام کی بھلائی اور ترقی ہی ہے ۔ ماضی میں بے گھر غرباء کو ‘قبائلیوں اور دلتوں میںزمینات تقسیم کی جاتی تھیں‘ اب سب بدل گیا ہے ۔غریبوںکو سرچھپانے کیلئے زمین بھی نہیں ہے ۔انہوںنے تعلیم کے حوالے سے کہا کہ ہماری زندگی کے ہرشعبہ کا تعلق تعلیم سے ہی ہے اور ہمارے سارے مسائل کاحل بھی یہی ہے ۔ہم جب تک عزم اور حوصلہ کے ساتھ مشقت ومحنت نہیںکریںگے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ ہم کواپنی زبان کو بہتر بنانا ہوگا‘ تعلیم کے حصول سے ہی ہم کمال اور ملکہ پاسکتے ہیں۔آپ چاہتے ہیںکہ آپ کو بہتر مواقع حاصل ہوں تویہ تعلیم سے ہی ممکن ہے ۔آپ کے مستقبل کی بنیادآپ کی تعلیم پرہی ہوتی ہے ۔ آپ اس کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے ذہن میںمحفوظ کرلیں۔چیف منسٹرنے اعلان کیاکہ دوسو کروڑکے خرچ سے ایک مربوط اسکول بنارہے ہیںاور تمام تعلیمی اداروںکو محبوب نگرمیں قائم کریںگے ۔سیول سرویسز کیلئے آگے آنے والوںکو ہم مالی امداد بھی فراہم کررہے ہیں اور جاریہ سال ٹریپل آئی ٹی کی عمارت تعمیرکرلیںگے ۔ انہوں نے آخری میں مشورہ دیا کہ سب پر والدین کا ادب اوراحترام لازمی ہے ۔ آپ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کریں۔ بہترمواقع سے استفادہ کریں اوراپنے مستقبل کو روشن بناتے ہوئے معاشرہ کیلئے مثال بنیں۔ اس موقع پرریاستی وزراء دامودر راج نرسمہا‘ جوپلی کرشنارائو‘ واکیٹی سری ہری ‘ ممبران پارلیمنٹ ڈی کے ارونا‘ملوروی ‘ارکان اسمبلی ینم سرینواس ریڈی ‘ انیرودھ ریڈی ‘ جی مدھو سدن ریڈی ‘میگھاریڈی ‘ کچکولہ راجیش ‘ویرلا شنکر‘ رام موہن ریڈی ‘ محکمہ تعلیمات کی پرنسپل سکریٹری یوگیتا رانا‘ ضلع کلکٹر وجیندرا بوئی ‘ضلع ایس پی جانکی دھراوت اوردیگرموجود تھے ۔
