ضلع نلگنڈہ میں بلدی انتخابات بڑی سیاسی جماعتوںکیلئے سخت امتحان

   

باغی امیدواروں سے کانگریس کو سنگین چیلنج ‘ ضلع میں مجلس کی مضبوط انٹری بھی برسرا قتدار جماعت کیلئے درد سر

نلگنڈہ۔ یکم؍فبروری (ایم اے فہیم کی رپورٹ) ریاست میں کانگریس کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے ضلع نلگنڈہ میں بلدیاتی انتخابات کی گہماگہمی روز بہ روز تیزی اختیار کرتی جا رہی ہے۔ کانگریس حکومت کے برسراقتدار آنے کے دو سال بعد پارٹی کے نشان پر منعقد ہونے والے یہ انتخابات ضلعی وزراء اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے لیے وقار کا مسئلہ بن گئے ہیں۔ پارٹی ہائی کمان کی جانب سے ’’صفر باغی‘‘ پالیسی کے سخت احکامات کے باوجود زمینی صورتحال خاصی پیچیدہ نظر آ رہی ہے۔متحدہ ضلع کی 18 بلدیات میں امیدواروں کے انتخاب کے عمل پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ الزام ہے کہ کئی ایم ایل ایز نے پی سی سی کے قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پارٹی کے دیرینہ اور وفادار کارکنوں کے بجائے اپنے قریبی حامیوں اور رشتہ داروں کو ترجیح دی ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں باغی امیدوار میدان میں آ گئے ہیں۔ پنچایتی انتخابات کی طرح اس بار بھی پارٹی کو اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔17 میونسپلٹیوں اور ایک میونسپل کارپوریشن کے مجموعی طور پر 407 وارڈوں کے لیے صرف کانگریس کی جانب سے ہی 1267 امیدواروں نے نامزدگیاں داخل کیں جس سے پارٹی میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ بی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے کئی امیدوار بھی ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ ارکان اسمبلیوں کے حامی گروپس کونسلر کے ساتھ ساتھ چیئرمین کے عہدوں پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔عام زمرہ اور خواتین کے لیے مختص نشستوں پر مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ اس بار بی سی طبقات کے امیدوار بھی عام نشستوں پر بھرپور طاقت کے ساتھ میدان میں اترے ہیں جس کے باعث پارٹی قیادت کسی ایک طبقے کو مطمئن کرنے کی پوزیشن میں نہیں دکھائی دے رہی ہے۔کانگریس بی آر ایس بی جے پی مجلس اتحاد المسلمین اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 3,209 امیدوار میدان میں ہیں جس سے سہ فریقی نہیں بلکہ کثیر جہتی مقابلہ ناگزیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کا عمل 3/فروری کو ختم ہوگا اور باغیوں کو منانے کے لیے صرف دو دن باقی ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی شام تک وزراء اور ارکان اسمبلیوں کی جانب سے کی گئی بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔مجلس اتحاد المسلمین کی مضبوط انٹری بھی برسر اقتدار جماعت کے لئے درد سر بننے کا خدشہ ہے بلدیاتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین نے بھی اپنی سرگرم موجودگی درج کرا دی ہے۔ مجلس کی جانب سے نلگنڈہ میونسپل کارپوریشن کے 9 ڈیویژنس میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کے طور پر صدرِ مجلس اتحاد المسلمین و رکنِ پارلیمنٹ نے پیدل دورہ (پدیاترا) کے ذریعہ عوام سے راست رابطہ قائم کرتے ہوئے مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں میں جوش و خروش دیکھنے میں آیا جس سے انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔نلگنڈہ میونسپل کارپوریشن کے علاوہ بڑی بلدیات میں باغی امیدوار کانگریس کے لیے سنگین چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ سوریاپیٹ میں 176 کوڈاڈ میں 122 حضور نگر میں 92نلگنڈہ میں 143 میریال گوڑہ میں 213 دیورکنڈہ میں 105 اور بھونگیر میں 55 امیدوار میدان میں ہیں۔بلدیہ واری میں چوٹ پل 43 تروملاگیری 51 ہالیہ 61 چندور 45 چٹیال34 نندی کنڈہ30 اور نیرڈوچرلا 27 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں جبکہ آلیر واحد میونسپلٹی ہے جہاں 12 وارڈوں کے لیے 12 امیدوار ہیں۔ادھر بی جے پی میں بھی اندرونی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ الزام ہے کہ بعض لیڈر مالی لین دین کے ذریعے فیصلے کر رہے ہیں جس پر پارٹی کارکنوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ضلع صدر ورشت ریڈی اور سنگھ کے سینئر قائدین کی نگرانی میں یہ معاملات انجام پا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں بعض امیدوار بی جے پی کے ٹکٹ پر مقابلے سے دستبرداری پر غور کر رہے ہیں۔مجموعی طور پر ضلع نلگنڈہ میں بلدیاتی انتخابات تمام بڑی جماعتوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکے ہیں اور آنے والے چند دن یہ طے ہو جائیگاکہ سیاسی بساط پر کس کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔