ریاستوں کی رپورٹ پر فیصلہ متوقع، نقل و حرکت پر محدود پابندی بھی زیرغور
حیدرآباد۔7اپریل(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے ضلع واری اساس پر لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے!مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومتوں سے مرکز رپورٹ کی طلبی کے بعدضلع واری اساس پر لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے کیونکہ مکمل لاک ڈاؤن کو ختم کئے جانے کی صورت میں دوبارہ ہجوم اور لوگوں کے اچانک باہر نکل جانے سے حالات بے قابو ہونے کا خدشہ ہے ۔ملک بھر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے پہلے ان مراکز کی نشاندہی کی جائے گی جن مقامات پر سب سے زیادہ کورونا وائر س کے مریض پائے جارہے ہیں اور ان مریضو ںکا علاج جاری ہے اور اس کے بعد ان مقامات کی نشاندہی کی جائے گی جن مقامات پر اب تک کورونا وائرس کے مصدقہ مریض پائے گئے ہیں اور ان کے سبب دوسروں کو یہ بیماری منتقل ہوئی ہے ۔ان مقامات پر لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا سوال ہی نہیں ہے علاوہ ازیں ماہرین نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان کے مطابق حکومت کو مشورہ دیا گیاہے کہ جن علاقوں یا اضلاع میں اب تک ایک بھی کورونا وائرس کا مریض نہیں پایا گیا ہے ان علاقوں اور اضلاع سے پہلے لاک ڈاؤن ختم کیا جائے لیکن ان اضلاع سے کسی کو باہر جانے یا ان اضلاع میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے ۔نیتی آیوگ کے ماہرین نے حکومت دی گئی سفارش میں 28 دن کے مکمل لاک ڈاؤن کی تکمیل کے بعد بتدریج ضلع واری اساس پر مائیکرو رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ اگر عوامی تکالیف کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کو عجلت میں ختم کرنے کے اقدامات کئے جا تے ہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔نیتی آیوگ کی جانب سے دیئے گئے اس انتباہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں نے بھی حکومت کو مشورہ دینا شروع کردیا ہے کہ جب تک ضلع واری مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے مکمل صحت مند ہونے کی اطلاعات اور دیگر کی نشاندہی کا عمل مکمل نہیں کیا جاتا اس وقت تک لاک ڈاؤن کو ختم نہ کیا جائے بلکہ سے سختی سے نفاذ کے ذریعہ جلد از جلد حالات کو معمو ل پر لانے اور مریضوں کی نشاندہی کے ذریعہ انہیں دوسروں سے الگ کرتے ہوئے ان کے علاج کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں اور شہریوں کوکورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کو ترجیح دی جائے ۔بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں عوامی شعور اجاگر کرتے ہوئے لاک ڈاؤن میں توسیع کی جائے گی۔
