ضلع پداپلی میں مقامی لیڈروں کو سنگین نتائج کا انتباہ ، سیاسی حلقوں میں خوف کا ماحول

   

ماوسٹ پارٹی کی سرگرمیاں، ڈیویژن کمیٹی سکریٹری وینکٹش کے نام سے بیان
حیدرآباد /6 ستمبر ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں ماویسٹ پارٹی ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ اپنی قدیم روایات کو دہرانے لگی ہے ۔ وہ قدیم روایات جس سے پارٹی نے نہ صرف مقبولیت اختیار کی بلکہ نا انصافیوں کو روکنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ۔ اب دوبارہ ایسی سرگرمیوں کا عملاً آغاز کردیا ہے ۔ پداپلی ضلع میں ماوسٹ پارٹی نے ایک پیغام جاری کیا ۔ جس میں مقامی لیڈروں کو سنگین نتائج کا انتباہ دیا گیا ۔ ماویسٹ پارٹی ڈیویژن کمیٹی سکریٹری وینکٹیش کے نام سے جاری کردہ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں سنسنی اور خوف پیدا ہوگیا ۔ ایک انتہائی اہم مسئلہ پر ماویسٹ جماعت نے اپنا موقف واضع کردیا اور مقامی لیڈروں کو سخت وارننگ بھی جاری کردی بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دیکر رقم حاصل کرنے والے بی آر ایس پارٹی کے لیڈروں کو انتباہ دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی غلطی کا اژالہ کرلیں اور نوجوانوں کو ان کی رقم واپس کردیں ۔ ایک عرصہ دراز کے بعد مقامی مسائل پر ماویسٹوں کا کھلا خط سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے تو دوسری طرف ریاستی پولیس کی الجھن میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اب جبکہ ریاست تلنگانہ میں انتخابی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں ۔ ایسی صورت میں ماویسٹوں کا مقامی سطح پر ردعمل ظاہر کرنا سیاسی لیڈروں کیلئے خوف کا سبب بن گیا ہے ۔ جیسا کہ ماویسٹ سابق میں نکسلائیٹ کی شکل میں دیہی سطح پر یہ چھوٹے عوامی مسئلہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے تھے ۔ اب اس طرح ایک عرصہ کے بعد ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ۔ ماویسٹوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں گوریڈ بیٹا کے مقامی بی آر ایس قائدین کے نام بھی جاری کردئیے جن پر نوجوانوں کو دھوکہ دینے کا الزام ہے ۔ بے روزگار نوجوانوں کے علاوہ دلتوں پر جاری مظالم اراضیات کے معاملہ میں ظلم و زیادتی اور اجارہ داری کا ماوسٹوں نے سخت نوٹ لیا ہے ۔ تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ ایک چھوٹے دیہات کا مسئلہ ماویسٹوں تک کس طرح پہونچا ۔ کیا ماویسٹ اپنے قدیم روایت پر جدید دور میں بھی عمل پیرا ہیں ۔ جیسا کہ دیہاتوں اور ٹاونس میں وہ اپنے ہمدردوں کو رکھا کرتے تھے ۔ اور ان ہمدردوں کے ذریعہ مقامی حالات سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے ان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے تھے ۔ اور عوامی مسائل پر توجہ دیا کرتے تھے ۔ ماویسٹوں کی ان تازہ سرگرمیوں سے سیاسی قائدین بالخصوص برسر اقتدار جماعت سے وابستہ قائدین میں خوف پیدا ہوگیا ہے ۔ ایسے حالات میں ماویسٹوں کا انتخابات پر اثر انداز ہونا بھی ان حالات کے سبب موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ ع