ضلع پریشد اور پنچایت انتخابات بیلٹ پیپر سے کروانے اپوزیشن کا مطالبہ

   

مہاراشٹرا میں کرناٹک کی طرز پر رائے دہی کے مطالبہ میں حالیہ بلدی انتخابات میں شکست کے بعد شدت

ممبئی، 20 جنوری (یواین آئی) مہاراشٹرا میں اپوزیشن نے ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ یہ مطالبہ 20 جنوری کو اس وقت سرخیوں میں آیا جب اپوزیشن جماعتوں نے کرناٹک کی طرز پر مہاراشٹر میں بھی اسی طرح کے قدم کی وکالت کی۔واضح رہے کہ مہاراشٹر میں اپوزیشن جماعتوں کے اس مطالبے کو اس وقت تقویت ملی جب پیر کے روز کرناٹک کے چیف الیکشن کمشنر نے گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے ) کے تحت قائم پانچ نئی میونسپل کارپوریشنوں کے مئی میں ہونے والے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بجائے بیلٹ پیپر سے کرانے کا اعلان کیا۔کرناٹک حکومت کے اس قدم کو ووٹروں کے اعتماد کو مضبوط کرنے اور انتخابی شفافیت بڑھانے والا قدم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں نے دلیل دی کہ خاص طور پر ریاست میں دیہی مقامی اداروں کے انتخابات کے لیے بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ کرائی جانی چاہیے ۔ یہ مطالبہ کانگریس کے سینئر لیڈر نانا پٹولے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رکنِ اسمبلی امول مٹکری نے کیا ہے ، جس کے باعث آئندہ مرحلے کے مقامی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔مہاراشٹر میں حال ہی میں ہوئے میونسپل کارپوریشن انتخابات کے نتائج کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی قابلِ اعتماد ہونے پر سوال اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے روایتی بیلٹ پیپر ووٹنگ کی جانب واپس آنا ہوگا۔اس مطالبے کے زور پکڑنے کے ساتھ ہی اب سب کی نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مہاراشٹر حکومت اور ریاستی الیکشن کمیشن اس پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ ان کی جانب سے کیا گیا فیصلہ آئندہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے انعقاد کو متاثر کر سکتا ہے اور ریاست میں اس کے وسیع سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔