ضلع کمرم بھیم میں اوقافی جائیدادوں کا کوئی پرسان حال نہیں

   

Ferty9 Clinic

غیر مجازقبضوں کا سلسلہ جاری، مقامی مسلمانوں میں تشویش، ضلع اوقاف انسپکٹر کی تقرری ضروری

کاغذ نگر۔/28 اگسٹ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی ٹی آر ایس حکومت مسلم اقلیتوں کی اوقافی جائیدادوں کی حفاظت کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھار رہی ہے تاکہ مسلم اقلیتوں کی اوقافی جائیدادوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ نہ ہو اور اوقافی جائیدادوں کے ذریعہ مسلم اقلیتوں اور اوقاف کی سالانہ آمدنی میں اضافہ ہوسکے ۔ لیکن ضلع کمرم بھیم آصف آباد ایسا ضلع ہے جس کا تلنگانہ کے پسماندہ اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پسماندہ ضلع کمرم بھیم آصف آباد علحدہ ضلع کی تشکیل کے بعد سے ہی ضلع میناریٹی ویلفیر آفیسر کے تقر ر میں سوتیلاپن اختیار کیا جارہا ہے ، اور صرف دوسرے محکمہ کے عہدیداروں کو ضلع میناریٹی ویلفیر آفیسر کی ذمہ داری دی جارہی ہے۔ گزشتہ6 سال سے ضلع میں انچارج کے ذریعہ ڈیوٹی حاصل کی جارہی ہے۔ ضلع میناریٹی ویلفیر کامستقل طور پر تقرر نہ کئے جانے پر ضلع کمرم بھیم آصف آباد کے مسلم اقلیتوں اور میناریٹی طبقہ کے لوگوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور خاص طور پر ضلع کمرم بھیم آصف آباد میں موجود لگ بھگ 303 ایکر اراضی اوقافی جائیدادوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے جس کی وجہ سے مسلم اوقافی جائیدادوں پر غیر قانونی طور پر ناجائز قبضوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کاغذ نگر اوقافی جائیداد اور مسلم عاشور خانہ وقف انسپکٹر نہ رہنے پر مقامی عوام اور مسلم نوجوانوں نے غیر قانونی طور پر اقافی جائیدادوں اور عاشور خانوں پر قبضہ کی کوشش کو ناکام بنایا اور اس کی اطلاع ضلع انچارج میناریٹی ویلفیر آفیسر کو دی گئی۔ لیکن تاحال ضلع میناریٹی ویلفیر آفیسر یا مسلم میناریٹی محکمہ کی جانب سے کوئی بھی ایک مرتبہ بھی دورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا، جس کی وجہ سے مقامی مسلمانوں میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ ضلع کمرم بھیم آصف آباد میں ضلع میناریٹی ویلفیر آفیسر اور وقف انسپکٹر کا تقرر کرتے ہوئے مسلمانوں کی اوقافی جائیدادوں کی حفاظت کی جائے ورنہ وقف چیرمین اور ریاستی حکومت کے اعلانات صرف کاغذی اعلانات تک محدود رہ جائیں گے۔