ضلع کھمم میں این پی آر پر متعدد دشواریاں ، تقریبا ً11 لاکھ ناخواندہ ہندو

   

59 ہزار مسلمان غیر تعلیم یافتہ ، دستاویزات کے شعور سے محروم ، شہریت کو ثابت کرنا مشکل
حیدرآباد۔17 فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں این پی آر کی صورت میں ضلع کھمم میںجملہ 11لاکھ 67ہزار 136افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنے میں دشواریوں کا سامناکرنا پڑسکتا ہے اور یہ آبادی ضلع کھمم کی جملہ آبادی کا 42 فیصد حصہ ہے۔ ضلع کھمم کی جملہ آبادی کے متعلق اگر مردم شماری 2011 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ضلع میں 27لاکھ 97 ہزار370 افراد پر مشتمل آبادی ہے جن میں 25لاکھ 95 ہزار321 ہندو ہیں اور ایک لاکھ58ہزار887 مسلمان ہیں۔ جملہ25لاکھ 95ہزار 321 ہندؤوں کی آبادی میں غیر تعلیم یافتہ افراد کی تعداد 10لاکھ 98 ہزار449ہے جنہیں اپنی شہریت کا ثبوت پیش کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح مسلمانو ںکی ایک لاکھ 58ہزار887 کی آبادی میں 53ہزار 618 ناخواندہ افراد کو بھی اپنی شہریت کیلئے درکار دستاویزات پیش کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ایس سی کی جملہ آبادی 4لاکھ 62ہزار896 ہے جن میں غیر تعلیم یافتہ افراد کی تعداد 2لاکھ ایک ہزار341ہے اسی طرح ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کی جملہ آبادی 7لاکھ 65ہزار 565 ہے جن میں 4لاکھ 14ہزار 98 افراد غیر تعلیم یافتہ ہیں اور ان کے پاس بھی کوئی دستاویزات نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ مردم شماری 2011 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق ناخواندہ طبقہ کے پاس درکار دستاویزات نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور جو لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں ان کے پاس بنیادی دستاویزات کی عدم موجودگی ان کے لئے مشکل حالات کا سبب بن سکتی ہے ۔ آسام میں این آر سی کے دوران بنیادی دستاویزات رکھنے والوں کو بھی مشتبہ شہریوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا اور ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ این پی آر کی صورت میں جو حالات پیدا ہوں گے اس کا شکار صرف مسلمان نہیں ہوں گے بلکہ مسلمانوںکے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور دیگر طبقات کو بھی شہریت ثابت کرنے کی اس دوڑ کا حصہ بننا پڑے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے این پی آرکے ذریعہ این آر سی کی وضاحت کے بعدکوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ این پی آر سے کچھ مسائل نہیں ہوں گے کیونکہ این پی آر میں حاصل کی جانے والی تفصیلات کی بنیاد پر ہی مرکزی حکومت این آر سی کا عمل انجام دینے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس منصوبہ کو واضح کیا جاچکا ہے لیکن ریاست تلنگانہ میں تاحال این پی آر کے عدم نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ یکم اپریل سے این پی آر کے نفاذ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔