طارق رحمن کے دور میں پاکستان سے تعلقات بہتر ہوں گے

   

ڈھاکہ ۔ 28 فروری (ایجنسیز) بنگلہ دیش میں طارق رحمان کے وزیرِاعظم بننے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری کی توقع بڑھ گئی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق نیا سیاسی ماحول بنگالیوں کے خاندانی ملاپ کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ پاکستان میں مقیم بنگالی برادری شناخت اور بنیادی حقوق کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی نرمی بنگالی کمیونٹی کے لیے نئی امید کا سبب بنی ہے۔ بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیرِاعظم طارق رحمان کے منصب سنبھالنے سے پاک–بنگلہ تعلقات میں بہتری کی توقع بڑھ گئی ہے ساتھ ہی پاکستان میں مقیم بنگالی باشندے اب اپنے وطن جانے اور اپنے خاندانوں کے ملاپ کا خواب پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد براہِ راست پروازوں کی بحالی گزشتہ ماہ عمل میں آئی، جسے دونوں ممالک کے ایک زمانے میں منجمد رہنے والے تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ 1971 تک ایک ہی ملک کا حصہ رہنے والے ان ممالک کے روابط میں یہ مثبت پیش رفت 2024 میں بنگلہ دیش میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں نئی قیادت کے ابھرنے کے بعد ممکن ہوئی ہے۔