طارق رحمن 35 برس بعد بنگلہ دیش کے پہلے مرد وزیر اعظم

,

   

بیگموں کی سیاست کے بعد پڑوسی ملک میں ایک نئے باب کا آغاز، نئے چیالنجز کا سامنا

ڈھاکہ،17 فروری (ایجنسیز) بنگلہ دیش کی سیاست میں آج ایک اہم اور تاریخی پیش رفت اْس وقت سامنے آئی جب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمن نے منگل کے روز ملک کے 11ویں وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع پارلیمنٹ ہاؤس جاتیہ سنگسد بھبن کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوئی، جہاں صدر محمد شہاب الدین نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔طارق رحمن کے ساتھ 49 دیگر ارکان پارلیمنٹ کو بھی وزیر بنایا گیا اور ان تمام نے بھی حلف لیا ۔ تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، سیاسی رہنما، سفارت کار اور بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان شریک تھے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کی ۔بعد ازاں انہوں نے وزیراعظم طارق رحمن سے ملاقات کرکے انہیں وزیراعظم نریندر مودی کا ایک خط سونپا جس میں نئے وزیراعظم بنگلہ دیش کو ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ یہ حلف برداری کئی حوالوں سے تاریخی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ملک کی سیاست پر سابق وزرائے اعظم شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء کا غلبہ رہا، جسے سیاسی مبصرین بیگموں کی سیاست’’ یا ‘‘بیگموں کی جنگ’’ سے تعبیر کرتے تھے۔ طارق رحمان اس دورکے بعد پہلے منتخب مرد وزیرِ اعظم بنے ہیں، جس سے ملکی سیاست میں ایک نئے باب کے آغاز کی توقع کی جا رہی ہے۔ 20 نومبر 1965 کی تاریخ پیدائش والے طارق رحمن بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمن اور سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما رہے اور اپنی والدہ کے دورِ حکومت میں پارٹی کے اہم فیصلوں میں شریک رہے۔ 2008 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی بھاری کامیابی کے بعد طارق رحمن نے سکیورٹی خدشات کے باعث لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیارکی۔ اس دوران ان پر مختلف مقدمات بھی درج کیے گئے، جنہیں ان کے حامی سیاسی انتقام قرار دیتے رہے۔ بعد ازاں سیاسی تبدیلیوں کے بعد وہ وطن واپس آئے اور 2026 میں ڈھاکہ17 سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد سے آج تک کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پہلے وزیرِ اعظم تاج الدین احمد تھے، جنہوں نے 1971 میں عبوری حکومت کے تحت ذمہ داری سنبھالی۔ اس کے بعد شیخ مجیب الرحمن 1973 میں پہلے منتخب وزیرِ اعظم بنے۔ خالدہ ضیاء 1991 میںملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں جبکہ شیخ حسینہ سب سے طویل عرصے تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نئی حکومت کو معاشی استحکام، مہنگائی پر قابو پانے، نوجوانوں کے لیے روزگار اور سیاسی مفاہمت جیسے بڑے چیالنجزکا سامنا ہوگا۔ علاقائی سطح پر ہندوستان، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا بھی اہم ہوگا۔ حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں طارق رحمن نے کہا کہ وہ ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط کریں گے، معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اصلاحات کریں گے اور عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیں گے۔ انہوں نے سیاسی مخالفین سے بھی مفاہمت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی ترقی کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔
سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ اگر نئی حکومت وعدوں پر عمل کرنے میں کامیاب رہی تو یہ بنگلہ دیش کی سیاست میں استحکام اور ترقی کا نیا دور ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ملک کے پیچیدہ سیاسی حالات کے پیش نظر آنے والے مہینے طارق رحمن کی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گے۔