چنئی۔ دفاعی چمپئن چنئی سوپرکنگز کو اپنے ٹاپ آرڈر سے بہت زیادہ توقعات ہوں گی کیونکہ ان کا مقصد پیرکو یہاں آئی پی ایل میں طاقت سے بھرے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف اپنی مہم کو کامیابی کی پٹری پر واپس لانا ہے۔ یکے بعد دو شکستوں سے ہمیشہ پرسکون سی ایس کے ڈریسنگ روم میں خوف و ہراس پیدا نہیں ہوگا لیکن انتظامیہ بڑھتی ہوئی خامیوں کو دور کرنے کیلیے کوشاں ہوگی۔ کپتان رتوراج گائیکواڈ اور اعلیٰ درجہ کے راچن رویندرا کو پاور پلے میں سی ایس کے کو مطلوبہ آغاز فراہم کرنے کے لیے اپنے کھیل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ گایکواڑ118.91 پر اسٹرائیک کر رہے ہیں جبکہ رویندر ابتدائی دوگیمز میں بہتر مظاہرہ کرنے کے بعد ماند پڑے ہیں۔ سی ایس کے کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے شیوم دوبے رہے ہیں جنہوں نے 160.86 کے متاثر کن اسٹرائیک ریٹ سے 148 رنز بنائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نوجوان سمیر رضوی کو ٹیم میں واپس لایا جاتا ہے یا نہیں۔ 20 سالہ غیر معروف کھلاڑی نے گجرات ٹائٹنز کے خلاف چھ گیندوں پر14 رنز کا شاندار ارادہ ظاہر کیا لیکن اس کے بعد کے میچ میں دہلی کیپٹلز کے خلاف صفر کی وجہ سے انہیں حیدرآباد کے خلاف خارج کردیا گیا۔فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن اور متھیشا پتھیرانا مختلف وجوہات کی بناء پر آخری کھیل سے باہر ہو ئے، جس سے سی ایس کے کے بولنگ اٹیک میں خامیوں کا پردہ فاش ہوا۔ اگر وہ کے کے آر کے مقابلے کے لیے دستیاب نہیں رہتے ہیں، تو سی ایس کے کو ان کی غیر موجودگی کو پورا کرنے کے لیے غیر معمولی منصوبہ سوچنا ہوگا۔ اس طرح اس کی ذمہ داری دیپک چاہر، تشار دیشپانڈے اور مکیش چودھری کے ساتھ ساتھ اسپنرز معین علی، رویندرا جڈیجہ اور مہیش تھیکشنا پر ہوگی۔کے کے آرجو راجستھان رائلز کے ساتھ ٹورنمنٹ میں ناقابل شکست رہے، انہوں نے بیٹنگ کے ساتھ اپنے بے خوف انداز سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ سنیل نارائن کو ایک بار پھر اوپن کرنا ماسٹر اسٹروک ثابت ہوا ہے۔ اس سیزن میں ٹیم کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہونے کے ناطے، نارائن سے توقع ہے کہ وہ سی ایس کے کے بولروں کو مشکل میں ڈال دیں گے۔ ان کے ساتھی اوپنر فل سالٹ نے بھی ٹرینیڈاڈین کی کافی حد تک مدد کی ہے۔کپتان شریاس ایر اور رمندیپ سنگھ پر مشتمل مڈل آرڈرکو بہت زیادہ مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ آندرے رسل اور رنکو سنگھ نے اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کے کے آرکی اب تک کی بولنگ بے عیب رہی ہے، جس میں ہرشیت رانا، رسل اور ویبھو اروڑہ کی طرف سے بھی شراکت دیکھی گئی ہے۔ مچل اسٹارک اور ورون چکرا ورتھی ابتدائی دوگیمز میں ناقص مظاہروں کے بعد آہستہ آہستہ اپنے قدم جمارہے ہیں۔ مجموعی طور پر کے کے آر کی تمام شعبوں میں کارکردگی بے عیب رہی ہے اور وہ اس مقابلے کے لیے اپنی ٹیم تبدیل کرنا نہیں چاہیں گے۔