طالبات حجاب پہنیں توکسی کا دستوری حق نہیں بگڑتا

,

   

وکیل کی بحث۔ حجاب ،قرآن میں تذکرہ سے اسلام کا لازمی حصہ نہیںبن جاتا: حکومت کرناٹک
نئی دہلی: حجاب کے بارے میں کرناٹک ہائیکورٹ کے فیصلے کے جواز کو چیلنج کرنے والی درخواست گذاروں کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ دوشانت دوے نے منگل کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ حجاب عزت و وقار میں اضافہ کی علامت ہے اور کوئی بھی لڑکی یا خاتون جب حجاب لگائے تو وہ باوقار معلوم ہوتی ہے، جیسا کہ کئی ہندو خواتین اپنے سر کو ڈھانک کر عزت و وقار محسوس کرتی ہیں۔ یہ کافی شائستہ اور پُروقار عمل ہے۔ جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سبھانشو دھولیا کی بنچ نے ایڈوکیٹ دوے سے کہاکہ عزت و وقار کی تشریح وقت کے ساتھ ساتھ بدلی ہے اور یہ بدلتی رہتی ہے۔ دوے نے اثبات میں جواب دیا۔ اُنھوں نے دلیل پیش کی کہ اسکول جانے والی لڑکیاں حجاب لگائیں تو کسی کے بھی امن اور اُس کی سلامتی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور یقینا بھائی چارہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے بیان کیاکہ لڑکیاں حجاب لگانا چاہتی ہیں تو کس کا دستوری حق بگڑتا ہے؟ کیا دیگر طالبات کا؟ کیا اسکول کا؟ بنچ نے ایڈوکیٹ دوے سے استفسار کیاکہ کئی اسکولوں میں مختلف شناخت اور حیثیت کے بچے ہوسکتے ہیں، اِس لئے وہاں یونیفارم ہوتا ہے جس سے کسی کی بھی امیری یا غریبی ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ ایڈوکیٹ دوے نے کہاکہ وہ یونیفارم کی افادیت کو سمجھتے ہیں اور ہر ادارہ اپنی شناخت قائم کرنا چاہتا ہے۔بنچ نے کہاکہ اُس کے پاس نہایت محدود سوال ہے کہ آیا اسکارف کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ دوے نے کہاکہ یونیفارم سوسائٹی میں غیر ضروری بوجھ ہے اور اکثر لوگ اُس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ کرناٹک میں سلسلہ وار اقدامات کے ذریعہ اقلیتی برادری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کیوں اچانک 75 سال گزر جانے کے بعد ریاست کو اِس قسم کی پابندی لاگو کرنے کا خیال آیا۔ آرٹیکل 25 نہایت واضح ہے، دستور ساز اسمبلی کے مباحث اِسے تقویت پہنچاتے ہیں۔ دوے نے زور دیا کہ اصل نکتہ مذہبی عمل کا ہے، ایسا عمل جو باضابطگی اور تسلسل سے کیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حجاب اور اسکارف ایسا ہی عمل ہے اور یہ حق مسلم طالبات سے نہیں چھینا جاسکتا۔ دوے نے آج کیلئے اپنے دلائل کا اختتام کیا جس کے بعد عدالت نے حکومت کرناٹک کے کونسل کے دلائل کی سماعت شروع کی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اپنی دلیلوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کرناٹک حکومت نے ڈسپلن کے مدنظر تعلیمی اداروں کو ڈریس کوڈ نافذ کرنے کو کہا ہے اور حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ ایران سمیت کئی اسلامی ممالک میں خواتین حجاب کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ قرآن میں حجاب کا ذکر ہونے سے وہ اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہو جاتا۔ اس معاملہ پرکل بھی ملک کی سب سے بڑی عدالت میں سماعت کا امکان ہے۔