نیویارک : میانمار کی فوجی حکومت اور افغانستان کے حکمراں طالبان نے اقوام متحدہ میں اپنے اپنے نمائندے مقرر کرنے کے لیے درخواست کی تھی۔ تاہم عالمی ادارے نے فی الحال اس پر اپنا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک اہم کمیٹی نے میانمار کے فوجی جنتا اور افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنے ممالک کے لیے نشستیں حاصل کرنے کی درخواستوں پر اپنی کارروائی کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی کریڈینشیئل کمیٹی کے اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ میانمار اور افغانستان کی سابقہ حکومتوں کے سفیر فی الحال اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔میانمار کی موجودہ فوجی حکومت نے اقوام متحدہ میں سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سفیر کیاؤ مو تن کی جگہ ایک سابق فوجی آنگ تھرویئن کو مقرر کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔میانمار کی جنتا نے فروری میں سویلین رہنما آنگ سان سوچی کی منتخبہ حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار چھین لیا تھا۔ طالبان نے صدر اشرف غنی کی سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سفیر غلام اسحاق زئی کو ہٹا کر محمد سہیل شاہین کو اپنا نیا سفیر مقرر کرنے کی استدعا کی تھی۔ لیکن اسحاق زئی نے بھی ادارے سے اپنی سیٹ برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔