دوحہ : طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی وفد میں شامل ایک رکن نے کہا ہے طالبان کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ لڑائی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے، جو ایک ’خطرناک ذہنیت‘ ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی وفد کے ایک رکن حافظ منصور نے کہا ہے کہ طالبان ابھی تک جنگ بندی پر تیار نہیں ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایک ایسے موقع پر کہی ہے جب طالبان اور افغان حکومت کے وفود آئندہ ہفتے سے مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے والے ہیں۔ حافظ منصور کے مطابق طالبان فورسز کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ لڑائی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے افغان حکومت کو اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے اسے ایک‘خطرناک ذہنیت‘ قرار دیا۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز گزشتہ برس ہوا تھا جس کا مقصد ملک میں جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی کے بعد ملک میں ایک متفقہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آ سکے۔ گزشتہ برس 29 فروری کو طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں کمی لائیں گے۔ اسی معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت براہ راست مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کریں گے تاکہ افغانستان سے امریکی اور غیر ملکی فوجوں کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔ حافظ منصور کے مطابق بعض ایسے ممالک جو گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان کی مدد کرتے رہے ہیں وہ ایک عبوری حکومت کے قیام کے لیے مدد کرنے کو تیار ہیں۔ یہ عبوری حکومت دراصل حکومت کی موجودہ شکل سے ایک نئی ہیت میں تبدیلی کو ممکن بنائے گی جس پر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان اتفاق رائے ہو گا۔ افغان حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وفد کے رکن حافظ منصور کے بقول امریکا کی یہ کوشش ہو گی کہ رواں برس مئی میں امریکی افواج کی مکمل واپسی سے قبل طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پا جائے۔ طالبان اور امریکا کے درمیان فروری 2020ء میں دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکی فورسز رواں برس مئی تک افغانستان سے نکل جائیں گی۔