طالبان حکام نے دو سزا یافتہ قاتلوں کو سزائے موت دیدی

   

Ferty9 Clinic

کابل: طالبان حکام نے جمعرات کو مشرقی افغانستان کے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں قتل کے دو مجرمان کو سرعام پھانسی دے دی۔سپریم کورٹ کے اہلکار عتیق اللہ درویش نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخندزادہ کا دستخط شدہ موت کا وارنٹ بلند آواز سے پڑھا جس کے بعد دونوں افراد کو غزنی شہر میں پشت پر متعدد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔درویش نے کہا، “یہ دونوں افراد قتل کے جرم میں سزا یافتہ تھے۔ ملک کی عدالتوں میں دو سال تک مقدمہ چلنے کے بعد حکم نامے پر دستخط کیے گئے ہیں۔”سزائے موت کا مشاہدہ کرنے کیلئے اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔سزا یافتہ مردوں نے جن افراد کو قتل کیا، ان کے اہلِ خانہ موجود تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مجرم کو آخری لمحات میں مہلت دینا چاہتے تھے لیکن انہوں نے دونوں مجرمان کیلئے انکار کر دیا۔طالبان حکومت کے اسلامی قانون کے نفاذ کے مطابق رشتہ داروں کو خود مجرمان کو سزائے موت دینے کی پیشکش کی گئی لیکن ان کے انکار کرنے پر سکیورٹی فورسز کے ارکان نے دونوں افراد کو قتل کر دیا۔سپریم کورٹ کے ایک بیان کے مطابق سزائے موت پانے والوں کی شناخت سید جمال اور گل خان کے نام سے ہوئی اور دونوں بالترتیب ستمبر 2017 اور جنوری 2022 میں چاقو سے قتل کے مجرم قرار پائے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اخندزادہ نے ان کے مقدمات کی “غیر معمولی تحقیقات” کی تھیں۔