طالبان سے بات چیت مگر کسانوں سے نہیں، بی جے پی پر کانگریس کا طنز

   

نئی دہلی : کانگریس نے ہریانہ کے کرنال میں کسانوں کی آواز کو دبانے کے لئے انٹرنیٹ بلاک کردینے کے مسئلہ پر بی جے پی زیرقیادت ریاستی حکومت پر اپنے لفظی حملے میں شدت پیدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھٹر حکومت عوام کا اعتماد کھوچکی ہے اور اِسے سبکدوش ہوجانا چاہئے۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجیوالا نے ایک بیان میں کہاکہ جب بی جے پی طالبان سے بات چیت کرسکتی ہے تو کسانوں سے کیوں نہیں۔ اُنھوں نے انٹرنیٹ بند کرنے کے اقدام کو بی جے پی حکومت کی ڈکٹیٹر شپ قرار دیا۔ مہا پنچایت کے مقام پر کئی درجات پر مشتمل سکیورٹی لگادی گئی۔ سنٹرل فورسیس کے بشمول لگ بھگ 30 بٹالینس کو تعینات کردیا گیا۔ کرنال کی بھارتیہ کسان یونین کے جگدیپ سنگھ نے کہاکہ ایسا لگتا ہے حکومت کو دشمنوں کا سامنا ہے اور وہ ہر قیمت پر اُن کی مزاحمت کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ کسان کرنال منڈی میں جمع ہوئے اور کہاکہ وہ اُس آئی اے ایس آفیسر کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں جس نے 28 اگسٹ کو پولیس ایکشن کا حکم دیا تھا۔