طالبان کو استنبول کانفرنس میں شرکت پر راضی کرنے کی کوششیں تیز

   

کابل : طالبان کو استنبول کانفرنس میں شرکت پر راضی کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔افغان میڈیاکے مطابق گزشتہ دنوں امریکہ، قطر، اقوام متحدہ اور ترکی کے نمائندوں کی طالبان سیملاقات ہوئی جس میں طالبان کو استنبول کانفرنس میں شرکت پر راضی کرنے کی کوشش کی گئی۔قطرکیدارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ میٹنگز جاری ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ طالبان کانفرنس میں شرکت پر رضا مند ہو جائیں۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان کواستنبول کانفرنس میں شریک کرنے سے متعلق کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔طالبان افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا تک امن مذاکرات میں شرکت سے انکار کرچکے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے اپنے ایک بیان میں ترکی سمٹ میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے قبل کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش نہیں۔دوسری جانب ایک طالبان کمانڈر کا کہنا ہے کہ جب تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا معاملہ واضح نہیں ہوجاتا، معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔ ہمارا اولین ترجیح امریکی فوجیوں کا انخلا ہے۔ادھر افغان صدارتی محل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے ترکی سمٹ کے ایجنڈے اور تفصیلات سے افغان حکومت کو بھی اعتماد میں لیا ہے اور تقریب میں شرکت کے حوالے سے صدر اشرف غنی مشاورت کررہے ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ کی نئی حکومت نے یکم مئی تک اپنے فوجیوں کے افغانستان سے انخلا میں تاخیر کا عندیہ دیا ہے جس پر طالبان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد عالمی قوتوں کی جانب سے ترکی سمٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔