طالبان کیلئے ا مریکی امداد کی نگرانی

   

کابل : افغانستان کی مالی امداد کی نگرانی کرنے والے امریکی عہدیداروں نے جمعرات کو امریکی قانون سازوں کوبتایا کہ امداد کی بھر پور نگرانی کی جار ہی ہے تاکہ اسے طالبان تک پہنچنے اور انہیں کوئی مالی فائدہ اٹھانے سے روکا جا سکے۔ بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے ( USAID) کے ایشیا بیورو کے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر ، مائیکل شیفر نے کہا کہ، ‘‘ہم امداد کی ترسیل میں رخنہ ڈالنے اور مداخلت کرنے کی کوششوں کے خلاف انتہائی چوکس رہتے ہیں۔ بقول ان کے USAID امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالروں کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داری کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے، اورعمل درآمد کے شراکت داروں کو انتہائی بلند معیار پر رکھتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور یو ایس ایڈ کی جانب سے یہ یقین دہانیاں اس کے بعد سامنے آئی ہیں جب افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق امریکہ کے خصوصی انسپکٹر جنرل (SIGAR) نے آٹھ جنوری کو ایک خط میں کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں قائم افغان فنڈ کے کنٹرول میں موجود لگ بھگ ساڑھے تین ارب ڈالر کے بارے میں اب بھی کچھ سوالات جواب طلب ہیں۔ سگار نے کانگریس کو بتایا کہ افغان فنڈکی تشکیل کے ایک سال سے زیادہ عرصہ کے بعد اس نے افغان لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے اپنے مطلوبہ مقصد کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کی ہے۔