کابل: 18ستمبر (ایجنسیز ) افغانستان میں طالبان حکام نے انٹرنیٹ پر کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے بدھ کو متعدد صوبوں میں فائبر آپٹک کنیکشن منقطع کر دیے جسے حکام نے برائی کے خلاف مہم قرار دیا ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر کیے گئے اس اقدام کے نتیجے میں کئی علاقوں میں دو روز سے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے۔صوبہ بلخ میں حکومتی ترجمان عطا اللہ زید نے کہا کہ طالبان سربراہ کے حکم پر صوبے میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام برائی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور جلد ہی ملک بھر میں رابطے کے لیے متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں گے‘۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے نمائندے نے تصدیق کی کہ بلخ میں انٹرنیٹ تک رسائی اب صرف ٹیلیفون نیٹ ورک کے ذریعے ممکن ہے۔کابل میں ایک نجی انٹرنیٹ کمپنی کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائبر آپٹک افغانستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے، تاہم انہیں اس فیصلے کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔افغان میڈیا کے مطابق یہ پابندیاں روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ بلخ میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث بینکنگ سسٹم اور دیگر انٹرنیٹ پر مبنی خدمات مفلوج ہو گئیں۔
شیخ حسینہ اور ان کے اہل خانہ کو آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا
ڈھاکہ : 18ستمبر ( ایجنسیز )بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی جانب سے برطرف وزیرِاعظم شیخ حسینہ اور اِن کے اہل خانہ کو آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے۔سینئر سیکریٹری اختر احمد نے اس حوالے سے کہا ہے کہ برطرف وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اور اِن کا خاندان آئندہ فروری میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتا ہے۔یاد رہے کہ بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے مطابق اپریل میں حکومتی ہدایت پر اِن کے اہل خانہ کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے تھے۔