طلاق بل میں گزارہ کی گنجائش کمزور ، جہدکاروں کا تبصرہ

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ۔ 31 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت نے لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی تین طلاق بل منظور کراتے ہوئے اسے قانون بنانے میں لگ بھگ کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن ایک دن بھی نہیں گزرا کہ کئی قائدین جہدکاروں نے خود اس بل کی خاص طور پر گزارہ سے متعلق دفعہ کو کمزور کردینے پر تنقید کی ہے اور اسے خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملہ میں پیچھے کی طرف قدم قرار دیا ہے۔ جہدکار کویتا کرشنن سکریٹری آل انڈیا پروگریسیو ویمنس اسوسی ایشن نے کہا کہ یہ بل متاثرہ خاتون کو اس معیار کے مطابق نان و نفقہ کے حصول کو یقینی نہیں بناتا ہے جس طرح وہ زندگی گزارتی رہی۔ سپریم کورٹ سے رجوع ہونے والی خواتین میں شامل حسینہ خان نے کہا کہ مسلم خواتین (تحفظ حقوق برائے شادی) بل 2019ء کے تحت گزارہ کا الاونس مجسٹریٹ طئے کرے گا جس میں تاخیر ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ شوہر کو جیل بھیج دیا جائے، بچوں کی ذمہ داری کون سنبھالے گا۔ ہم شادی کو تباہ کرنا نہیں چاہتے لیکن طلاق ثلاثہ بل شادیاں برباد کردے گا۔ اس طرح کے خیالات کا اظہار ایک اور جہدکار مریم دھاولے اور دوسروں نے بھی کیا ہے۔ مریم کا کہنا ہیکہ بل میں یہ صراحت نہیں ہیکہ کون سسرالی رشتہ دار متاثرہ بیوی اور بچوں کی ذمہ داری لیں گے۔ سابق صدرنشین قومی اقلیتی کمیشن طاہر محمود نے کہا کہ اب شاید تین طلاق معاملے کم ہوجائیں گے۔ پارلیمنٹ کے منظورہ بل کے تحت ایک ہی نشست میں تین طلاق دینا غیرقانونی عمل رہے گا اور یہ بے اثر مانا جائے گا۔ نیز خاطی شوہر کو تین سال کی سزائے قید ہوگی۔ تین طلاق دینے کا عمل ناقابل ضمانت ہے۔ اس دوران انڈین یونین مسلم لیگ نے کہا ہیکہ وہ تین طلاق کو مجرمانہ زاویہ دیئے جانے کے خلاف ہے اور ایسی قانون سازی میں حکومت کے ارادہ پر سوال اٹھایا ہے۔