طلاق ثلاثہ بل : راجیہ سبھا میں غیر حاضر رہنے والی سیاسی جماعتوں کے سیکولرازم کے دعوے آشکار

   

…… : پندرہ منٹ میں کیا اور کیسے ہوگیا ! :……
ٹی آر ایس کی جانب سے مرکزی حکومت کی بالواسطہ تائید، بی جے پی کو مستحکم کرنے والی سیاسی پارٹی کی حلیف کا اب موقف کیا ہے؟ملت کا استفسار
حیدرآباد۔31َْٰٓجولائی (سیاست نیوز) ملک میں 15 منٹ کا چرچہ زور و شور سے جاری ہے اور 15منٹ میں ہی طلاق ثلاثہ بل پر مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں رائے دہی کا عمل مکمل کرواتے ہوئے شریعت میں مداخلت کی راہ ہموار کردی ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ بل پر کروائی جانے والی راجیہ سبھا میں رائے دہی کے دوران علاقائی سیاسی جماعتوں نے جو موقف اختیار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتوں کا موقف کتنا ہی مستحکم کیوں نہ ہو وہ مرکز میں برسراقتدار سیاسی جماعت کے آگے بے بس ہی ہوتی ہیں ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے ارکان کی غیر حاضری اور رائے دہی میں حصہ نہ لینے کے فیصلہ کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بالواسطہ تائید کی ہے اور طلاق ثلاثہ مسئلہ پر حکومت کو استحکام فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ آر ٹی آئی اور یو اے پی اے جیسے قوانین کو منظور کروانے کے لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی سیاسی وفاداری کا مرکزی حکومت کو ثبوت دیا جبکہ انتخابات سے قبل سربراہ تلنگانہ راشٹر سمیتی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی محاذ کی بات کر تے ہوئے یہ دعوی کر رہے تھے کہ ان کی سیاسی جماعت دیگر علاقائی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مرکز میں حکومت سازی کیلئے فیڈرل فرنٹ کی تشکیل عمل میں لائے گی۔تلنگانہ راشٹرسمیتی نے جن سیاسی جماعتوں کے فیڈرل فرنٹ میں شامل ہونے کے دعوے کئے تھے ان تمام سیاسی جماعتوں نے طلاق ثلاثہ بل مسئلہ پر اپنی ذہنی پراگندگی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ ٹی آر ایس ارکان راجیہ سبھا نے رائے دہی سے غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کیا اور اب تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید کرنے والی مسلم تنظیموں سے امت سوال کر رہی ہے کہ جس سیاسی جماعت نے شریعت میں مداخلت کی راہ ہموار کی ہے اس کے خلاف کس طرح کی مہم چلائی جائے گی اور جو سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حلیف بنی ہوئی ہے اب اس کا کیا موقف ہے کیونکہ حلیف سیاسی جماعت نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کی شدت کے ساتھ مخالفت کی ہے جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اس مسئلہ پر لوک سبھااور راجیہ سبھا میں یکساں موقف اختیار کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ بل پر حکومت کو بالواسطہ تائید فراہم کی ہے۔

جماعت اسلامی کے علاوہ یونائیٹڈ مسلم فورم کی جانب سے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید کی گئی تھی اور یونائیٹڈ مسلم فورم کے ذمہ دارو ںمیں کئی اہم شخصیتیں شامل ہیں جو کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ دارو ں میں شمار کئے جاتے ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں ٹی آر ایس کی حلیف سیاسی جماعت کے ذمہ دار بھی شامل ہیں اور اب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے واضح طور پر کہا ہے کہ راجیہ سبھا میں رائے دہی کے عمل سے واک آؤٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں نے طلاق ثلاثہ بل کی تائید کی ہے اور اس سلسلہ میں مولانا سید ولی رحمانی کا بیان سامنے آچکا ہے تو کیا امت مسلمہ کے اتحاد اور پرسنل لاء بورڈ کو امت کا نمائندہ بورڈ قرار دینے والی سیاسی و مذہبی تنظیمیں تلنگانہ راشٹر سمیتی سے قطع تعلق کر لیں گی؟ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے کیونکہ مولانا سید ولی رحمانی نے واضح طورجے ڈی یو‘ ٹی آر ایس اور وائی ایس آر سی پی کا نام لیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ان کے سیکولرازم کے دعوے آشکار ہوچکے ہیں اور جن لوگوں نے واک آؤٹ کیا ہے ان سیاسی جماعتوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کی ہے۔اب جبکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کہناہے کہ رائے دہی میں حصہ لینے کے بجائے واک آؤٹ کرنے والے ارکان پارلیمان اور سیاسی جماعتوں نے در حقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حلیف سیاسی جماعت اور ٹی آر ایس اور وائی ایس آر سی پی کی تائید کرنے والی مذہبی تنظیموں اور قائدین کی کیا ذمہ داری ہے اور ان کے لئے کیا موقف اختیار کیا جانا چاہئے یہ بات واضح ہوچکی ہے۔سوشل میڈیا پر جاری تبصروں کو دیکھیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کو بھی اب یہ بات سمجھ میں آچکی ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے واک آؤٹ کرتے ہوئے کس کی مدد کی ہے تو اب وہ سیاسی قائدین کہاں ہیں جو ہواؤں کی بو سونگھ کر یہ کہنے کے دعوے کرتے ہیں کہ بارش ہونے والی ہے ۔

ان سیاسی قائدین کو طلاق ثلاثہ کی بارش میں بھیگنے کے بعد بھی کیوں اس بات کا اندازہ نہیں ہورہاہے کہ وہ بھیگ چکے ہیں!سوشل میڈیا پر کئے جانے والے تبصروں میں حلیف سیاسی جماعت سے استفسار کیا جا رہاہے کہ کیوں اب تک تائید برقرار رکھی گئی ہے جبکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی کہہ دیا ہے کہ جن جماعتو ںنے واک آؤٹ کیا ہے ان سیاسی جماعتوں نے درحقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی تائید کی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ نام نہاد مسلم قیادت کی ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ وہ 15منٹ میں فیصلہ نہیں کرپائے اور نہ ہی 15 گھنٹے گذرنے کے بعد بھی اس بات کا فیصلہ کرپائے ہیں کہ ان کی حلیف سیاسی جماعت جس کے حق میں انہوں نے انتخابی مہم چلائی وہ خود بھارتیہ جنتا پارٹی کی مددگار ثابت ہوئی ہے۔