مرکز میں بی جے پی کی تائید کا الزام، کالیشورم پراجکٹ کے نام پر کے سی آرکی تشہیر
حیدرآباد۔/15 جون، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں کانگریس کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کالیشورم پراجکٹ کے نام پر ملک بھر میں اپنی تشہیر کا سامان کررہے ہیں۔ انہوں نے پراجکٹ کی تفصیلی رپورٹ اور لاگت سے متعلق تفصیلات مشتمل وائیٹ پیپر کی اجرائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کے سی آر نے راج شیکھرریڈی دور حکومت میں شروع کردہ پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کو کالیشورم میں تبدیل کرتے ہوئے لاگت میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ری ڈیزائننگ کے نام پر پراجکٹ کی لاگت 80 ہزار کروڑ تک پہنچادی گئی اور اطلاعات کے مطابق کنٹراکٹ اور دیگر کاموں میں ہزاروں کروڑ روپئے کی دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کو وضاحت کرنی چاہیئے کہ سابق وزیر آبپاشی ہریش راؤ کو نئی وزارت میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ نے کالیشورم پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کے سلسلہ میں غیر معمولی محنت کی تھی لیکن پراجکٹ کی تکمیل کے ساتھ ہی کے سی آر نے انہیں راستہ سے ہٹاکر پراجکٹ کی کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھ لیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پراجکٹ پر جو رقم خرچ کی گئی اس بارے میں عوام جاننا چاہتے ہیں کیونکہ حکومت کے پاس فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے بجٹ نہیں ہے لیکن تشہیری کاموں پر بھاری رقم خرچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور مہاراشٹرا و آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس کو افتتاحی تقریب میں مدعو کرتے ہوئے کے سی آر ملک بھر میں یہ پروپگنڈہ کررہے ہیں کہ کالیشورم ملک کا واحد بڑا اور منفرد پراجکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر بی جے پی سے قربت کے باوجود تلنگانہ کیلئے فنڈز حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے موقع پر تلنگانہ کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے گزشتہ پانچ برسوں میں ان کی تکمیل نہیں کی گئی۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چیف منسٹر نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت کی تائید کی ہدایت دی ہے۔ پہلی میعاد میں بھی ٹی آر ایس نے اہم موضوعات پر بی جے پی کی تائید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے متعلق حساس طلاق ثلاثہ بل پر گزشتہ سیشن میں ٹی آر ایس نے مخالفت اور واک آؤٹ سے گریز کرتے ہوئے حکومت کی تائید کی تھی۔ اس مرتبہ بھی مسائل کی بنیاد پر تائید کا اعلان کیا گیا جس سے صاف طور پر اشارہ ملتا ہے کہ بی جے پی حکومت کی غیر مشروط طور پر تائید کی جائے گی۔ انہوں نے کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ طلاق ثلاثہ بل پر پارٹی کے موقف کا اعلان کرے۔ اس کے علاوہ انہیں پارلیمنٹ میں اختیار کئے جانے والے موقف اور مسائل کی بنیاد پر تائید کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کے بعد مرکز میں بی جے پی کی تائید کرنا دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔
