ٹی آر ایس نے شریعت میں مداخلت کی تائید کی، بی جے پی کے بڑھتے اثر سے کے سی آر خوفزدہ
حیدرآباد۔26 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ طلاق ثلاثہ بل کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ لوک سبھا میں بل پر ووٹنگ کے دوران ٹی آر ایس ارکان ایوان سے غائب ہوگئے اور اس طرح بل کی تائید کی گئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں خود کو مسلمانوں کا ہمدرد ظاہر کرنے والے کے سی آر کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ میں چار نشستوں پر بی جے پی کی کامیابی کے بعد سے کے سی آر خوفزدہ ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ مرکز کہیں کرناٹک کے بعد ان کی حکومت کو نشانہ نہ بنادے۔ لہٰذا وہ اندرونی طور پر بی جے پی کے ساتھ سازباز کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور اس کے باہر تائید کررہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں حکومت کو بچانے بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ امیت شاہ اور چندر شیکھر رائو فون پر ایک دوسرے سے ربط میں ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مودی حکومت کی پہلی میعاد میں جب دو مرتبہ طلاق ثلاثہ بل پیش کیا گیا تھا اس وقت بھی ٹی آر ایس میں بل کی تائید کی تھی۔ مباحث اور رائے دہی سے غیر حاضر رہتے ہوئے بی جے پی حکومت کی تائید کی جارہی ہے اور تلنگانہ کے مسلمانوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ بل کے خلاف ہے۔ اگر واقعی ٹی آر ایس طلاق ثلاثہ بل کی مخالف ہے تو پارلیمانی پارٹی کے قائد کو موقف کا اعلان کرنا چاہئے۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو تیقن دیں کہ راجیہ سبھا میں جب بھی بل پیش ہوگا ٹی آر ایس مخالفت کریگی۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ بی جے پی شریعت میں مداخلت کررہی ہے۔
لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے جھوٹے ہمدرد کے سی آر بی جے پی کی مدد کرکے شریعت میں مداخلت کی تائید کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکام حکومت سے عوام سخت ناراض ہیں اور پارٹی میں اندرونی حالات ٹھیک نہیں۔ ایسے میں کے سی آر کو اندرونی بغاوت کا اندیشہ ہے جس سے بچنے کے لیے انہوں نے بی جے پی سے مفاہمت کرلی ہے۔ محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس کی حلیف جماعت مجلس سے سوال کیا کہ بی جے پی سے ٹی آر ایس کی مفاہمت کے بعد ان کا موقف کیا رہے گا۔ طلاق ثلاثہ بل پر ٹی آر ایس نے بی جے پی کے حلیف ہونے کا واضح ثبوت پیش کردیا ہے۔ ایسے میں مجلس کس طرح ٹی آر ایس کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر بیک وقت دونوں جماعتوں کو اپنے ساتھ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں طبقات کے ووٹ حاصل ہوسکیں۔
