طلاق ثلاثہ قانون کو رضا اکیڈیمی کا سپریم کورٹ میں چیلنج

,

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی۔7 اگست (پریس نوٹ) طلاق ثلاثہ کے متعلق بنائے گئے نئے قانون کے ذریعہ شریعت اسلامیہ میں جو مداخلت ہورہی ہے، وہ ملک کے دستور کے ذریعہ ہر ہندوستانی شہری کو دیئے گئے مذہبی حقوق کو سلب کرنے جیسا ہے۔ علمائے اسلام سے مشاورت کے بغیر ایک خالص دینی اور شرعی معاملے میں جو قانون بنایا گیا، اس میں نیک نیتی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شرعی طور پر بہت ساری خامیاں موجود ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور امید رکھتے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت اس معاملے میں مسلمانوں کو انصاف دینے کی کوشش کرے گی۔ اس طرح کا بیان رضا اکیڈیمی کے سیکریٹری الحاج محمد سعید نوری نے آج سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرنے کی کارروائیوں کے دوران دیا۔ موصوف نے کہا کہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت سے ہندوستانی مسلمانوں میں سخت بے چینی ہے، لیکن مسلمانوں کو ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات و احکامات کی روشنی میں زندگی گزاریں اور اپنے مسائل کو حل کریں ۔ یہی دین کا تقاضہ بھی ہے اور وقت کی ضرورت ہے۔ تحریک درود و سلام کے روح رواں مولانا عباس رضوی (ممبئی) نے کہا کہ اس حساس مسئلہ پر سپریم کورٹ کے وکلاء ایڈوکیٹ شاہد علی، ایڈوکیٹ فاروق، ایڈوکیٹ شکیل اور ایڈوکیٹ مشتاق سے ملاقات اور قانونی مشاورت کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے مسلم وکلاء بھی اس معاملے کو لے کر بہت زیادہ سنجیدہ اور فکرمند ہیں۔ قاری عبدالرحمن ضیائی نے کہا کہ کن شرعی اور قانونی نکات کے تحت طلاق ثلاثہ قانون کو چیلنج کیا جاسکتا ہے، اس پر تفصیل کے ساتھ سپریم کورٹ کے وکلا سے رضا اکیڈیمی کے وفد نے تبادلہ خیال کیا۔ اس وفد میں رضا اکیڈیمی مالیگاؤں کے اراکین شکیل احمد سبحانی، الطاف تابانی اور عتیق رضوی بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ مشتاق کے توسط سے رٹ پٹیشن داخل کرنے کیلئے رضا اکیڈیمی کے جنرل سیکریٹری الحاج محمد سعید نوری نے وکالت نامہ اور دیگر متعلقہ کاغذات پر دستخط کردیئے۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ مشتاق احمد نے کہا کہ ہماری رٹ پٹیشن انشاء اللہ اندرون چند یوم داخل ہوجائے گی اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ اس پٹیشن کے ذریعہ ان تمام نکات کو سپریم کورٹ کے سامنے دلائے کے ساتھ لائیں۔