سنی مسلم علمائے دین اور محققین کی تنظیم سمست کیرالا جمعیۃ العلماء کی سپریم کورٹ میں درخواست
نئی دہلی ۔ 2 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) نیا قانون جس کے تحت ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق یعنی طلاق ثلاثہ دینے کو جو مسلمانوں میں رائج ہے ، قابل تعزیر جرم قرار دینے کو سپریم کورٹ اور دہلی ہائیکورٹ میں جمعہ کے دن چیلنج کیا گیا ۔ ایک دن قبل صدر جمہوریہ ہند رامناتھ کووند نے مسلم خواتین تحفظ ازدواجی حقوق قانون 2019 ء کی منظوری دی تھی ۔ سنی مسلمان محققین اور علمائے دین نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کرتے ہوئے درخواست داخل کی جس میں اس قانون کو غیردستوری قرار دیا گیا ہے ۔ یہ قانون قانونِ فوجداری کی حیثیت سے متعارف کروایا گیاہے اور مذہبی تشخص میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ اس کی وجہ سے سرکاری طورپر شرانگیز کارروائی بے لگام ہوجاتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں معاشرے کی تازہ صف بندی اور عدم رواداری و عدم ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے ۔ تنظیم نے ادعاء کیا کہ وہ وسیع ترین مسلم تنظیم برائے کیرالا ہے کیونکہ اس کے ارکان کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ اُس نے کہاکہ یہ قانون سازی مسلمانوں کی حد تک محدود ہے اور اس قانون کے پس پردہ جو مقصد ہے وہ طلاق کو مسلم شوہروں کی جانب سے ایک قابل تعزیر جرم قرار دینا ہے نہ کہ طلاق کا خاتمہ کرنا ۔ دفعہ 4 اعظم ترین تین سال سزائے قید عائد کرتا ہے ۔ اگر کوئی شوہر طلاقِ ثلاثہ دے جرم قابل تعزیر ہے اور دفعہ 7 کے تحت ناقابل ضمانت بھی ہے ۔ جمعیۃ العلماء کیرالا نے دعویٰ کیا کہ قانون دفعہ 14,15 اور 21 (دستورِ ہند ) کی خلاف ورزی ہے اس لئے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر اس کامقصد مسلم خواتین کے لئے شادی کو ایک خوشگوار کام قرار دینا ہوتا تو اس کا کوئی جواز نہیں ہے کہ کوئی شخص جو اس کی تعمیل نہ کریں ایسے خاطی شوہر کو تین سال کی سزائے قید دی جائے اور ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے ،
صرف اس لئے کہ اُس نے ’’طلاق ، طلاق ، طلاق‘‘ کہا ہے ۔ نیا قانون طلاقِ بدعت کو اسی نوعیت کا جرم قرار دیتا ہے جو بلا اشتعال اور فوری اثر کے ساتھ طلاق دینا ہوسکتا ہے چنانچہ اس قانون کو کالعدم کرتے ہوئے اسے غیرقانونی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ جمعیۃ العلماء کیرالا نے کہاکہ یہ قانون طلاقِ ثلاثہ کو غیرقانونی قرار دیتا ہے چاہے یہ زبانی ہو یا ایس ایم ایس کے ذریعہ تحریری یا کسی دیگر برقی گپ شپ میں دی گئی ہو ، ایک ہی نشست میں ایس ایم ایس کے ذریعہ ، واٹس ایپ کے ذریعہ یا کسی اور برقی گپ شپ کے ذریعہ طلاقِ ثلاثہ جرم قرار پایا ہے اور اس کی حیثیت غیرقانونی ہوچکی ہے ۔ واٹس ایپ کے ذریعہ طلاق دینے کے بعد مسلم شوہر اپنی بیوی پر اپنے حقوق کھودیتا ہے ۔دستور کے کارآمد ہونے کو نئے قانون سے چیلنج درپیش ہے ۔ جنرل سکریٹری علی کٹی مسلیار نے کہا کہ قانون کی دفعہ 1(3) گنجائش فراہم کرتی ہے کہ 19 سپٹمبر 2018 ء سے استقدامی اثر کے ساتھ اس کو نافذ کیا جائے گا ۔ کسی کارروائی کو جرم قرار دینا ممکن ہے کہ مقننہ کا اختیارِ تمیزی ہو لیکن یہ مقررہ طریقہ کار کے تحت نہیں ہے۔ ایک اور مذہبی تنظیم نے مقررہ طریقہ کار پر عمل نہ کرنے کی شکایت کی اور کہا کہ کسی مذہب کے پیرووں کو اس کارروائی کے لئے مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک کہ دیگر مذاہب کے پیرووں کے لئے بھی اسی قسم کا قانون نا بنایا جائے ۔ دستور میں منطقی اعتبار سے اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ طلاق کو صرف کسی برادری کیلئے تعزیری جرم قرار دیا جائے اور اس قسم کا قانون دیگر برادریوں پر عائد نہ ہو ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ فلاح و بہبود کی خاطر منظور کیا جانے والا قانون نہیں ہے کیونکہ یہ ازدواجی مسائل سے نمٹتا ہے ۔ علاوہ ازیں یہ صرف فوجداری قانون بھی نہیں کہلایا جاسکتا ۔ پورے احترام کے ساتھ درخواست گذار نے کہاکہ یہ قانون سازی ممکن ہے کہ عدالتی ضمیر کی آواز ہو ، لیکن یہ قانون دستور کی دفعہ 21 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔