قانون مسلم خواتین کو غیردستوری قرار دینے کی دیگر درخواستوں سے منسلک ،مرکز کو نوٹس ، جواب کی طلبی
نئی دہلی ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں تین طلاق کے عمل کو قابل سزاء جرم بنانے اور جرم کے مرتکب افراد کو تین سال کی قید دینے کیلئے حال ہی میں وضع کردہ نئے قانون کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواست کی سماعت سے اتفاق کرلیا ہے۔ جسٹس این وی رمنا کے زیرقیادت بنچ نے ایک تنظیم کی طرف سے دائر کردہ اس درخواست پر مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ اس درخواست میں مسلم خواتین (تحفظ حقوق ازدواج) قانون 2019ء کے جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس اجئے رستوگی بھی شامل ہیں، حکم دیا کہ اس درخواست کو عدالت عظمیٰ میں پہلے ہی داخل کردہ دیگر مماثل درخواستوں سے منسلک کردیا جائے۔ قبل ازیں یہ عدالت ان درخواستوں کے ایک مجموعہ پر مرکز کو نوٹس جاری کی تھی۔ ان درخواستوں میں مسلم خواتین کو (تحفظ حقوق ازدواج) قانون 2019ء کو اس بنیاد پر غیردستوری قرار دینے کی اپیل کی گئی تھی کہ اس سے مبینہ طور پر بعض دستوری نفاذ کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس قانون کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں قبل ازیں تین درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ اس نئے قانون کے ذریعہ ’طلاق بدعت‘ اور اس قسم کی فوری دی جانے والی دیگر طلاقوں کو جنہیں ناقابل تنسیخ سمجھا جاتا ہے، منسوخ و کالعدم قرار دیا گیا تھا اور طلاق ثلاثہ کو غیرقانونی بنائے جانے کے علاوہ زبانی، تحریری یا ایس ایم ایس اور واٹس ایپ نیز کسی دوسرے الیکٹرانک یا سوشل میڈیا چیاٹنگ ذریعہ سے دی جانے والی طلاق کو قابل سزائے قید جرم بنادیا گیا تھا۔ اس قانون میں کہا گیا ہیکہ ’’کسی مسلم شوہر کی طرف سے بیوی کو بیک وقت دی جانے والی زبانی، تحریری یا پھر سوشل میڈیا ذریعہ سے دی جانے والی طلاق منسوخ و کالعدم قرار پائے گی‘‘۔