l سیول سرویس میں مسلمانوں کا تناسب بڑھانا وقت کا تقاضہ
l فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈس کا انٹر میڈیٹ طلبہ کے لیے کونسلنگ سیشن ، عامر علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : مسلم طلباء وطالبات کو ایسے کورسیس اور مضامین اختیار کرنے چاہئے جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو ۔ جس سے حصول روزگار میں آسانی ہو ، اگر ہمارے بچے مختلف فنون کے ماہر ہوجائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیابی ، ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے سے نہیں روک سکتی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو محنت اور صبر اختیار کرنا ہوگا ۔ اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کرنا ہوگا ۔ وقت کی پابندی کو اہمیت دینی ہوگی اور پھر صبر و تحمل کے ذریعہ آگے بڑھنا ہوگا ۔ ان زرین خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈس کے زیر اہتمام انٹر میڈیٹ کامیاب طلبا وطالبات کے لیے منعقدہ خصوصی کونسلنگ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس کونسلنگ سیشن میں تقریبا دو سو طلبہ اور ان کے والدین و سرپرستوں نے شرکت کی ۔ یہ ایسے طلبہ ہیں جنہوں نے حال ہی میں انٹر میڈیٹ کامیاب کیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ان تمام طلباء وطالبات کو پرائمری اسکول سے لے کر انٹر میڈیٹ تک زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں فیض عام ٹرسٹ ، اس کے سکریٹری جناب افتخار حسین اور ہیلپنگ ہینڈس کا اہم کردار رہا ہے ۔ دونوں اداروں نے ان طلبہ کے تعلیمی اخراجات برداشت کئے جس کے لیے غریب والدین نے فیض عام ٹرسٹ اور ہیلپنگ ہینڈس کے عطیہ دہندگان کا بطور خاص شکریہ ادا کیا ۔ جناب عامر علی خاں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ہمارے طلباء و طالبات دوستوں یا سہیلیوں کو دیکھ کر کورس کا انتخاب کرتے ہیں ۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ انہیں وہ کورس کرنا چاہئے جو وہ پسند کرتے ہیں اور مستقبل میں جس کے کافی مواقع ہوں ۔ ہمارے طلبہ کو چاہئے کہ وہ یوٹیوب وغیرہ پر وقت ضائع کرنے والے پروگرامس کے بجائے ایسے پروگرامس کا مشاہدہ کریں جس سے انہیں زبردست مانگ یا طلب رکھنے والے کورس کے بارے میں جانکاری حاصل ہوسکے ۔ اس ضمن میں انہوں نے بل گیٹس کی مثال دیتے ہوئے ان کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں گیٹس نے کہا تھا کہ کسی کو مچھلی کھانا مت سکھانا بلکہ مچھلی کا شکار کیسے کیا جاتا ہے وہ سکھانا چاہئے تاکہ اپنے بل بوتے پر اپنی روٹی روزی کا انتظام کیا جاسکے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے طلبہ کو یہ بھی بتایا کہ پیشہ طب میں ایسے کافی کورسیس ہیں جس کی تکمیل کرتے ہوئے طلباء و طالبات اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں ۔ اس طرح سیول سرویس میں بھی طلبہ قسمت آزماسکتے ہیں ۔ دنیا میں 57 اسلامی ملک ہیں ۔ فارن سروسیس میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ ان حالات میں ہمارے طلبہ اگر سنجیدگی سے سیول سروسیس کی تیاری کریں تو انہیں اسلامی ملکوں میں خدمات کے لیے حکومت ہند اعلیٰ عہدوں پر فائز کرسکتی ہے ۔ خاص کر خواتین کے لیے 33 فیصد تحفظات اس معاملہ میں مسلم لڑکیوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد رفیق میڈیکل اڈمنسٹریٹر نیشنل میڈیکل اسٹوڈنٹس کوآرڈینٹر و موٹیوویشنل اسپیکر نے بھی خطاب کیا جو انٹر میڈیٹ کامیاب طلبہ کے لیے کافی مفید رہا ۔ انہوں نے طلبہ کو کئی ایسے کورسیس سے واقف کروایا جو انٹر میڈیٹ کے بعد کئے جاسکتے ہیں ۔ خاص طور پر طبی میدان اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے عصری کورسیس کے بارے میں طلبہ کو واقف کروایا ۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اگر زندگی میں کامیابی چاہتے ہوں تو سب سے پہلے اپنے مقصد کا تعین کریں پھر اس کے حصول کی کوششیں کرتے رہیں ۔سخت محنت کرتے ہوئے روشن مستقبل کو یقینی بنائیں کیوں کہ جو لوگ محنت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ضرور کامیابی عطا کرتے ہیں ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے بھی خطاب کیا ۔ افتخار حسین کا کہنا تھا کہ فیض عام ٹرسٹ کو ہمیشہ سے ہی ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی کا بھر پور تعاون حاصل رہا ہے ۔ فیض عام ٹرسٹ معاشرہ کے پریشان حال خاندانوں اور ذہین طلبہ کی جو کچھ مدد کررہی ہے وہ سب کچھ اس کے عطیہ دہندگان کے تعاون کے بغیر ناممکن تھا ۔ اس موقع پر رکن عاملہ فیض عام ٹرسٹ جناب سید حیدر علی ، سابق ڈپٹی ڈی او و ماہر تعلیم احمد بشیر الدین ، تعلیمی کونسلر ماہر تعلیم جناب ایم اے حمید ، ثنا بیگم ( ہیلپنگ ہینڈس ) ، سید عبدالستار ، محمد اعظم ، محمد یسین ، سمیر اور سمرین ( فیض عام ٹرسٹ ) بھی موجود تھے ۔ جناب ایم اے حمید نے طلبہ کی شخصی کونسلنگ کی اور طلباء و اولیائے طلبہ کو مختلف کورسیس کے بارے میں معلومات فراہم کیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ فیض عام ٹرسٹ کی مالی مدد حاصل کرنے والے 103 اور ہیلپنگ ہینڈس سے امداد حاصل کرنے والے 70 طلباء وطالبات نے شرکت کی ۔۔