عصری مضامین کی مساجد میں کوچنگ کلاسس، پہلے مرحلہ میں شہر کی 20 مساجد کا انتخاب
حیدرآباد: مسلم طلبہ اور نوجوانوں کو مساجد سے جوڑتے ہوئے عصری مضامین میں مہارت پیدا کرنے کیلئے دانشوروں کے ایک گروپ نے اجلاس منعقد کیا ۔ اجلاس کا مقصد لاک ڈاؤن کی صورتحال کے بعد سے طلبہ اور نوجوانوں کی تعلیم سے دوری اور سوشیل میڈیا اور انٹرنیٹ سے بڑھتی قربت کو دیکھتے ہوئے دوبارہ تعلیم سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ شہر کی 20 مساجد کا انتخاب کیا گیا جس میں مسلم طلبہ اور نوجوانوں کو اہم عصری مضامین کی کوچنگ دی جائے گی ۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو دینی معلومات پر مبنی کلاسس کے ذریعہ شریعت اور اخلاقیات کی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے گا۔ سماج میں بڑھتی برائیوں کا خاتمہ صرف شعور بیداری کے ذریعہ ممکن ہے۔ اسی احساس کے تحت دانشوروں میں فیصلہ کیا ہے کہ پہلے مرحلہ میں شہر کی 20 مساجد میں انگلش ، سائنس ، میاتھس اور دیگر مضامین کی کوچنگ کا آغاز کیا جائے ۔ یہ کوچنگ اسکول کے اوقات کے بعد میں رکھی جائے گی تاکہ طلبہ بآسانی شرکت کرسکیں۔ طلبہ اور نوجوانوں کو مساجد سے جوڑتے ہوئے ان میں برائیوں کے خلاف نفرت اور نیکیوں کی انجام دہی کیلئے رغبت پیدا کی جاسکتی ہے۔ تاریخی مسجد چوک میں دانشوروں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مینجنگ ڈائرکٹر سیاست ظہیر الدین علی خاں ، ڈائرکٹر ایم ایس ایجوکیشن سوسائٹی محمد معظم حسین ، ماہر تعلیم ذاکر حسین ، مسجد کمیٹی کے صدر منور حسین ، سکریٹری سید شیخ کے علاوہ مختلف تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مسجد چوک کے علاوہ دیگر مساجد میں مضامین کے ماہرین کے ذریعہ کوچنگ کلاسس کا اہتمام کیا جائیگا ۔ مسجد چوک کے تحت ایک وسیع تر لائبریری ہے جس میں مختلف موضوعات کی نادر و نایاب کتابیں دستیاب ہیں۔ لائبریری کو بھی طلبہ اور عوام کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نوجوانوں کو مساجد سے جوڑنے کی اس مہم کو آنے والے دنوں میں مزید توسیع دی جائے گی تاکہ دیگر علاقوں میں بھی کلاسس کا اہتمام کیا جاسکے ۔