طلبہ اور ٹیچرس میں کورونا کیسوں میں اضافہ باعث تشویش

   

اسکولوں میں طلبہ کی حاضری بدستور متاثر،کوویڈ قواعد پر عمل آوری میں کوتاہی کی شکایت
حیدرآباد۔/12ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں تعلیمی اداروں کی کشادگی کو دو ہفتے مکمل ہونے کو ہیں لیکن ٹیچرس اور طلبہ میں کورونا کیسس میں اضافہ کے پیش نظر سرپرستوں میں تشویش برقرار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتداء میں والدین اور سرپرستوں نے بچوں کو فزیکل کلاسیس میں شرکت کیلئے اسکول روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ابتدائی دو دن کے بعد سرکاری و خانگی اسکولوں میں حاضری کسی قدر بہتر ہوئی لیکن طلبہ میں کورونا کی علامات کا پتہ چلنے کے بعد کئی اساتذہ بھی کورونا کی زد میں آگئے جس کے بعد سے اسکول انتظامیہ احتیاطی تدابیر کے بارے میں مزید چوکس ہوچکا ہے۔ حکومت نے فزیکل کلاسیس کے ساتھ ساتھ آن لائن کلاسیس جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے جس کے نتیجہ میں زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے بجائے آن لائن کلاسیس میں شرکت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ریاست میں 20 سے زائد طلبہ اور اساتذہ میں کورونا کی علامات پائی گئیں۔ محکمہ تعلیم نے ریاست کے سرکاری اور خانگی اسکولوں میں یکم ستمبر سے باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کے بعد منظر عام پر آنے والے کورونا کیسس کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔ میڈیا میں شہر اور مختلف اضلاع میں طلبہ اور اساتذہ کے کورونا سے متاثر ہونے کی اطلاعات کے بعد والدین میں خوف کا ماحول ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی اسکولوں میں طلبہ سردی، زکام اور کھانسی کی علامات کے ساتھ پائے گئے جنہیں اسکول انتظامیہ نے فوری علاج کے مشورہ کے ساتھ گھر واپس کردیا ہے۔ کورونا ٹسٹنگ کے بغیر اسکول آنے والے طلبہ سے ساتھی طلبہ میں وائرس باآسانی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ حکومت نے اساتذہ کیلئے کورونا ویکسین کے حصول کو لازمی قرار دیا ہے تاہم ابھی بھی کئی اساتذہ نے ویکسین کی دونوں خوراک حاصل نہیں کی ہے۔ ایسے اسکول جہاں وائرل فیور کے نام پر بچوں کا ٹسٹ کرانے سے گریز کیا جارہا ہے وہاں کے طلبہ میں زیادہ علامات دیکھی جارہی ہیں۔ حکومت نے سماجی فاصلہ کے ساتھ کلاسیس کے انعقاد کی ہدایت دی ہے لیکن اسکولوں میں گنجائش کی کمی کے باعث انتظامیہ فاصلہ کے بغیر ہی کلاسیس کا اہتمام کررہے ہیں۔ ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دینے کے باوجود کئی اساتذہ اور طلبہ ماسک کے بغیر پائے گئے۔ کتہ گوڑم اور ملگ اضلاع میں سب سے پہلے طلبہ کے متاثر ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ طلبہ سے ربط میں آنے والے اساتذہ کا ٹسٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ریاست میں 37000 سے زائد اسکولوں میں طلبہ کی تعداد تقریباً 53 لاکھ ہے جبکہ جونیر کالجس میں طلبہ کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکول اور کالجس میں طلبہ کی حاضری 30 تا 35 فیصد ہے۔R