نئی دہلی: ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں تشویشناک سالانہ شرح سے اضافہ ہوا ہے، جو آبادی میں اضافے کی شرح اور خودکشی کے مجموعی رجحانات کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر طلبہ کی خودکشی: ایک وبائی مرض انڈیا رپورٹ چہارشنبہ کو سالانہ آئی سی3 کانفرنس اور ایکسپو 2024 میں منظر عام پر لائی گئی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مجموعی طور پر خودکشی کی تعداد میں سالانہ 2 فیصد اضافہ ہوا، طالب علم کی خودکشی کے واقعات میں 4 فیصد اضافہ ہوا، اس کے باوجودکہ طالب علم کی خودکشی کے واقعات کی “انڈر رپورٹنگ” ہونے کے باوجود یہ اعداد وشمار تشویش ناک بتائے جارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، 2022 میں 13,044 طالب علموں کی خودکشی کی اطلاع دی گئی ہے جبکہ 2021 میں یہ تعداد 13,089 تھی۔ سال بہ سال ایک معمولی کمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کل خودکشیوں (طلبہ اور دیگر افراد) میں 4.2 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 2021 میں 164,033 سے بڑھ کر 2022 میں 170,924 ہو گیا۔ 4 فیصد، یعنی کل خودکشیوں سے دوگنا ہوچکی ہیں ۔طلبہ میں خود کشی کی ایک وجہ تعلیمی توقعات اور امتحانات میں ناکام ہونا ہے ۔