اندرون 6 ہفتے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت، بڑھتے خودکشی کے واقعات پر اظہار تشویش
حیدرآباد۔/15 اگسٹ، ( سیاست نیوز) قومی انسانی حقوق کمیشن نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں انٹر میڈیٹ طلبہ کی خودکشی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں حکومتوں سے خودکشی کی وجوہات پر رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن نے طلبہ کی خودکشی کے محرکات اور روک تھام کیلئے حکومت کے احتیاطی تدابیر پر رپورٹ مانگی ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے انتباہ دیا کہ اگر رپورٹ پیش کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹریز کے خلاف پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ کمیشن میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے شراون کمار نامی ایڈوکیٹ نے درخواست داخل کی جس میں بتایا گیا ہے کہ 2019 میں تلنگانہ میں 426 طلبہ اور آندھرا پردیش میں 383 طلبہ نے خودکشی کی ہے۔ 2020 میں لاک ڈاؤن کے سبب خودکشی کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن نے اپنے احکامات میں کہا کہ حکام کی جانب سے مختلف اقدامات کے باوجود طلبہ کی خودکشی کا سلسلہ جاری ہے۔ کمیشن نے واقعات کی روک تھام کیلئے ماہرین سے مشاورت کے بعد حکومتوں کو لائحہ عمل طئے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ تعلیم اور نفسیات سے متعلق ماہرین کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ دونوں ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اندرون 6 ہفتے ابتدائی رپورٹ پیش کریں۔ کمیشن نے کہا کہ طلبہ کی خودکشی کا رجحان صرف آندھرا پردیش یا تلنگانہ تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی یہ واقعات پیش آرہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پیشہ ورانہ طریقہ کار سے تعلیمی نظام میں اصلاحات رائج کئے جائیں تاکہ طلبہ خودکشی سے بچ سکیں۔ کمیشن نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کیلئے مسابقت، بھاری فیس اور اعلیٰ معیار زندگی کے علاوہ سرپرستوں کی جانب سے طلبہ کو نظرانداز کرنے جیسے امور خودکشی کا سبب بن رہے ہیں۔ درخواست گذار نے کہا کہ خانگی کالجس کے طلبہ کو زبردست دباؤ کا سامنا ہے۔