برلن ۔ 7 فروری (ایجنسیز) جرمن حکام کو ’ضرورت سے زائد‘ ماسک خریدنے اور بعد ازاں انہیں تلف کرنے کے لیے شفافیت کے پہلوؤں کو نظر انداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جرمن حکومت نے کہا ہے کہ اس نے کووڈ انیس کی عالمی وبا کے آغاز میں خریدے گئے تقریباً 3 ارب غیر استعمال شدہ حفاظتی ماسک تلف کر دیے ہیں۔ وفاقی جرمن وزارتِ صحت کی جانب سے اپوزیشن گرین پارٹی کے ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ خریدے گئے تقریباً 6 ارب ماسک میں سے نصف کو اب تک ”تھرمل ریکوری‘‘ کے لیے بھیج دیا گیا، جس میں توانائی پیدا کرنے کے لیے ماسک جلائے جاتے ہیں۔ ان تلفی کے اقدامات پر اب تک تقریباً 80 لاکھ یورو خرچ ہو چکے ہیں، جو سرکاری ٹینڈر کے بعد بیرونی ٹھیکیداروں کے ذریعہ انجام دیے جا رہے ہیں۔ غیر استعمال شدہ طبی سامان کی بڑے پیمانے پر تباہی نے وزارتِ صحت کی خریداری کی پالیسیوں پر ایک بار پھر شدید سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ جرمن فیڈرل کورٹ آف آڈیٹرز نے 2024ء میں انکشاف کیا تھا کہ وزارتِ صحت نے مجموعی طور پر 5.7 ارب ماسک تقریباً 5.9 ارب یورو میں خریدے، حالانکہ ”اصل ضرورت کہیں کم تھی۔‘‘ جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل کے مطابق مزید 85 ملین ماسک 2026 ء کے اختتام تک ان کی معیاد ختم ہونے پر تلف کیے جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزید 360 ملین ماسک اس وقت گوداموں میں رکھے گئے ہیں کیونکہ ان پر سپلائرز کے ساتھ عدالتی تنازعات جاری ہیں، جن میں وفاقی حکومت سے واجب الادا رقوم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ ان میں سے بھی بیشتر ماسک آخرکار ضائع کر دیے جائیں گے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کووڈ کی وبا کے دوران صرف تقریبا دو ارب ماسک ہی تقسیم کیے گئے۔ گرین پارٹی کی اپوزیشن رکن پارلیمنٹ پاؤلا پیشوٹا نے وزارت صحت پر شفافیت کی کمی اور ’’عوام کے ساتھ ناانصافی‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ ٹیکس دہندگان کو کوئی نقصان نہیں ہوا، عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔