طنز و مزاح کے ذریعہ سماج کو جگانے کی کوشش

   


دفتر سیاست میں تمثیلی مشاعرہ، مرد و خواتین محظوظ، جناب زاہد علی خان و دیگر شخصیت کی شرکت

حیدرآباد ۔ 5 ستمبر (سیاست نیوز) اردو صحافت کے 200 سالہ تکمیل اور حیدرآباد شہر کا کثیرالاشاعت اخبار روزنامہ سیاست کی اشاعت کے 75 سالہ تقاریب کے ضمن میں روزنامہ سیاست کے زیراہتمام یادگار ’’تمثیلی مزاحیہ مشاعرہ‘‘ اتوار کی شام عابد علی خان سنیٹری ہال، احاطہ روزنامہ سیاست (عابڈز) پر منعقد ہوا جس میں شائقین مزاح مرد و خواتین اور نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔ ان کے کلام کو منظرعام پر لانے کیلئے تمثیلی مزاحیہ مشاعرہ کے ذریعہ روزنامہ سیاست کے ذریعہ کوشش کی گئی اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کا یہ پہل کہ تمثیلی مشاعرہ منعقد ہو جس کیلئے شائقین طنز و مزاح کی بڑی تعداد نے اس مزاحیہ مشاعرہ کو دلجوئی سے سنا اور لطف اندوز ہوئے۔ مبارکباد دی۔ ہال کا فرسٹ فلور و سکنڈ فلور بھی تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا۔ اس لئے انتظامیہ نے ایل ای ڈی کا انتظام کیا۔ دونوں ہال یہ شائقین سے بھر چکے تھے۔ جناب منور علی مختصر ناظم مشاعرہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ مشاعرہ کے ذریعہ حیدرآباد شہر کے ممتاز و مایہ ناز مزاحیہ شعراء جن کے کلام ان کی زندگی میں ہی پچھلے دور میں ان ہی کی زبانی سن کر بڑی دھوم مچادی تھی جو ان کے بعد از مرگ بعد بھی اس کلام میں چاشنی و درد و کرب موجود ہے مگر آج نئی نسل سے یہ کلام نظر و ذہن سے اوجھل ہوتے جارہا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے شعراء کا کلام جن میں حضرت سلیمان خطیب، علی صاحب میاں، محمد حمایت اللہ، غوث خوامخواہ، عظمت بھلاواں، رؤف رحیم، شمشیر کوڑنگلی، فریدانجم، پاگل عادل آبادی اور دیگر نے اپنے دور میں مزاحیہ شاعری کے ذریعہ طنز و مزاح کے میدان میں اپنا ایک سکہ بنایا تھا، ان کے کلام کو من و عن ان کے لب و لہجہ میں سنا گیا۔ جناب وحید پاشاہ قادری نے مزاحیہ شاعر جناب پاگل عادل آبادی کے کلام کو مترنم اور ان ہی کی آواز میں سنا کر خراج پیش کرتے ہوئے داد حاصل کی۔ گلی نلگنڈوی جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ حالات کی بھرپور عکاسی کی تھی۔ جرائم، برائی و بے حیائی، سماج و معاشرتی برائیوں کو اپنے کلام کے ذریعہ واشگاف کیا۔ جناب وحید پاشاہ قادری کے پیش کردہ ترنم پر سامعین نے انہیں خوب داد سے نوازا۔ ڈاکٹر معین امر بمبو بھانسہ نے جناب محمد حمایت اللہ مرحوم کے کلام کو پیش کیا تو سامعین نے زبردست داد دی۔ جناب شہاب الدین پایہ جو حیدرآباد پایہ کو بڑے مؤثرانداز سے پیش کرتے ہیں، اس تمثیلی مشاعرہ کی صدارت کی، جن کا انداز بڑا نرالا و دل کو موہ لینے والا تھا، جس کی وجہ سے سامعین ہسنے پر مجبور ہورہے تھے۔ اس موقع پر سامعین کی جانب سے مسلسل اصرار ہورہا تھا کہ وہ اپنا مشہور گیت ’’پایہ‘‘ سنائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں بہت ساری سماجی برائیوں پر شعراء کا کلام سناکر طنز کیا۔ جناب لطیف الدین لطیف نے ممتاز شاعر حضرت سلیمان خطیب کے کلام کو سنا کر خراج پیش کیا۔ حضرت سلیمان خطیب جو اپنے وقت کے ممتاز طنز و مزاح کے شاعر رہے۔ مرزا نعمت اللہ بیگ نے جناب سردار اثر کا کلام پیش کیا جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ سماجی برائیوں و خرابیوں پر بڑی ضرب لگائی تھی اور وہ حیدرآباد ہی نہیں بیرونی ممالک میں اپنی ایک شناخت بنائی تھی۔ ان کا زیادہ تر کلام شراب، حالات کے سدھار، میاں بیوی سے اختلافات اور خوشگوار تعلقات کو بنائے رکھنے و دیگر سلگتے ہوئے موضوعات پر بنی رہا۔ جناب سردار اثر کا یہ شعر جس پر خوب داد سے نوازا گیا۔ ’’کہاں کہاں سے لاکر بھرتے جاؤں ۔ زندگی ہے، غار ہے کیا‘‘۔ شبیر خان ہری سنگھ پہلوان جو سامعین کی نظر میں تھے انہوں نے بھی اپنی اداکاری و کلام کے ذریعہ ہنسنے پر مجبور کردیا۔ جناب شبن خان جنہوں نے فوجی کی حیثیت سے مشاعرہ میں شرکت کی۔ بہت سارے موضوعات پر کلام سناکر داد حاصل کی گئی۔ اسی طرح شہناز بیگم سانولی بیگم اور جناب شمشیر کوڑنگل، جناب فریدانجم کے کلام کو پسند کیا گیا۔ جناب رؤف رحیم کے کلام کو جناب کے بی جانی نے پیش کیا اور اردو صحافت کے 200 سالہ تکمیلہ اور اخبار سیاست کی گرانقدر خدمات پر شرکاء نے جناب زاہد علی خان، جناب ظہیرالدین علی خان اور جناب عامر علی خان کو مبارکباد پیش کی۔ جناب منور علی مختصر، جو ناظم مشاعرہ تھے، مشاعرہ کے آغاز سے لیکر اس کے اختتام تک چھائے رہے اور درمیان میں طنز و مزاح کے ذریعہ محفل کو لالہ زار بنایا۔ انہوں نے مخصوص انداز میں جناب عظمت بھلاواں کے کلام کو پیش کرکے داد حاصل کی۔ جناب محمد ریاض احمد اور دوسروں نے اس تمثیلی مشاعرہ کو کامیابی تک پہنچانے میں پیش پیش رہے اور روزنامہ سیاست کی جانب سے کی جانے والی مختلف سرگرمیوں سے واقف کروایا۔ سامعین کا اصرار بھی تھا کہ اس طرح کا تمثیلی مشاعرہ اضلاع میں بھی روزنامہ سیاست کی جانب سے منعقد کیا جائے۔ اس تمثیلی مشاعرہ کو سیاست کے فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعہ راست پیش کیا گیا جہاں ناظرین نے ملک اور بیرون ملک میں دیکھا اور سنا گیا۔