احمدآباد /نئی دہلی۔13جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سمندری طوفان ’’وایو‘‘ نے اپنا راستہ تبدیل کردیا ہے اور امکان نہیں کہ وہ گجرات کے ساحل سے ٹکرائے گا جیسا کہ قبل ازیں پیش قیاسی کی گئی تھی ۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ ریاست گجرات میں حکومت کا ادعا ہے کہ سخت چوکسی کے احکام ہنوز برقرار ہے ۔ ریاستی حکومت نے تقریباً تین لاکھ افراد کو جو مخدوش علاقوں کے ساکن تھے اور کچے مکانات میں رہتے تھے ساحلی اضلاع سے منتقل کردیا ہے ۔یہاں کے ایئرپورٹس بند کردیئے گئے ہیں اور 50کروڑ روپئے ہنگامی اقدامات کے طور پر علحدہ رکھ دیئے ہیں ۔ ریاستی حکومت نے چوکسی کا بھی اعلان کیا ہے جو جمعہ تک برقرار رہے گی ۔ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ سمندری طوفان جسے انتہائی شدید سمندری طوفان کے زمرہ میں رکھا گیا ہے ۔ گجرات کے ساحلی علاقوں میں جمعرات کی دوپہر سے زمین کھسکنے کے واقعات کی وجہ بن گیا ہے ۔ محکمہ موسمیات کی اطلاع کے بموجب ریاست سے یہ سمندری طوفان دیڑھ سوکلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور امکان ہے کہ ساحلی علاقہ ویراول ضلع سومناتھسے متاثر ہوگا ۔ سمندری طوفان شمال مشرق کی سمت پیشرفت کررہا ہے اور امکان ہے کہ سوراشٹر کے ساحل دے ٹکرائے گا ۔ اطلاع کے بموجب سمندری طوفان تھوڑا سا طاقتور احمد آباد کے قریب ہوگیاتھا اور ایڈیشنل ڈائرکٹر منورما موہنتی نے کہا کہ انتہائی شدید سمندری طوفان وایو کی وجہ سے سوراشٹر میں زمین کھسکنے کے واقعات پیش آنے کا امکان نہیں ہے بلکہ یہ ساحلی علاقوں کو متاثر کرے گا ۔گیرسومناتھ ویراول سے 150کلومیٹر کیفاصلہ پر ہے اور طوفان کا یہاں پر بھی اثر دیکھا جائے گا ۔
