پیرس : اطلاعات کے مطابق ایک 20 سالہ شخص طیارہ کے لینڈنگ گئیر میں چھپ کرڈ ھائی گھنٹے کی پرواز کے بعد زندہ پیرس پہنچ گیا۔ اس طرح سفر کرنے والے افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں۔ الجزائر سے ایک کمرشل طیارہ کیلینڈنگ گیئر کمپارٹمنٹ میں چھپ کر سفر کرنے والا ایک شخص پیرس پہنچ گیا۔ جمعرات کے روز الجزائر کے شہر اوران سے ایئر الجزائر کی پرواز پیرس اورلی ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد تکنیکی عملہ کی جانب سے طیارہ کی جانچ کے دوران یہ شخص زندہ پایا گیا۔ ہوائی اڈے کے ایک ذریعہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈھائی گھنٹے کی پرواز کے بعد یہ شخص زندہ تھا لیکن شدید ہائپوتھرمیا کی وجہ سے خطرے کی حالت میں تھا۔ ہائپو تھرمیا ایک ایسی طبی حالت ہے، جس کے دوران انسانی جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے اور بعض کیسز میں یہ صورتحال جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس شخص کی عمر 20 سال تھی لیکن اس کے پاس کوئی شناختی کارڈ نہیں تھا اور اسے قریبی ہاسپٹل لے جایا گیا۔ کمرشل ہوائی جہاز 30 سے 40 ہزار فٹ (9 سے 12 ہزار میٹر) کی اونچائی پر سفر کرتے ہیں، جہاں درجہ حرارت عام طور پر تقریباً منفی 50 ڈگری تک گر جاتا ہے اور آکسیجن کی کمی لینڈنگ گئیر میں گھس کر سفر کرنے والے کسی بھی شخص کے لیے زندہ رہنے کا امکان نہیں چھوڑتی کیونکہ لینڈنگ کمپارٹمنٹ میں نہ تو آکسیجن ہوتی ہے اور نہ ہی جسم کو گرم رکھنے کا کوئی انتظام ہوتا ہے۔